اجتماعی زندگی کے آداب
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۵
متاثر ہو کر خدیجہ نے ان سے شادی کی درخواست کی۔ چنانچہ انھوں نے اپنے چچا ابو طالب کے مشورہ سے خدیجہ کی درخواست منظور کر کے اس سے شادی کر لی۔ اس وقت خدیجہ کی عمر پینتالیس برس کی تھی۔ اور حضرت صاحب پچیس برس کے تھے ۔ پندرہ سال کے بعد حضرت خدیجہ کا انتقال ہو گیا، اور انھیں بہت رنج ہوا۔ ان کی موت کے بعد اکثر حضرت صاحب بہت محبت اور شکر گزاری سے انھیں یاد کیا کرتے تھے۔ حضرت صاحب نے ایک غلام زید نامی کی حالت کمزور دیکھ کر اسے خدیجہ سے مانگ لیا اور فوراً آزاد کر دیا۔ آزادی ملنے پر زید نے اپنے گھر جانا پسند نہیں کیا، بلکہ تمام عمر حضرت محمد صاحب کے پاس رہنے کا فیصلہ کر لیا۔
حضرت صاحب اپنے ہم وطنوں کی جہالت اور خرابیوں کو دیکھ کر ہر وقت اداس رہتے تھے۔ اکثر تنہائی میں اپنا وقت گزارتے اور گڑگڑا کر خدا کی درگاہ میں دعا کرتے کہ اے خدا، انھیں گناہوں سے بچا اور ان کا دل اپنی طرف پھیر۔ آخر خدا نے ان کے پاک دل کو اپنے نور سے بھر دیا۔ اور یہ محسوس کرنے لگے کہ خدا چاہتا ہے کہ میں اس کا رسول بن کر لوگوں کو اس کی پرستش کی طرف راغب کروں۔ جب ان کی عمر چالیس برس کی تھی۔ اور غار حرا میں بیٹھے ہوئے خدا کے دھیان میں محو تھے، تو اچانک ایک آواز ان کے کان میں پڑی کہ "اے محمد! اٹھ اور خدا کا نام لے کر پڑھ ، تجھ پر وہ راستہ کھولا گیا ہے، جس کی تو تلاش میں تھا" یہ آواز سن کر وہ کانپ اٹھے۔ گھبرائے ہوئے اور پسینوں میں تر گھر پہنچے اور سارا قصہ حضرت خدیجہ کو سنایا۔ انھوں نے حضرت کو تسلی دی اور کہا کہ آپ خدا کے رسول ہیں اور آپ کو ضرور کامیابی حاصل ہوگی۔ یہ کہہ کر وہ ان پر ایمان لائیں۔ اور بعد میں حضرت علیٰ ، حضرت ابو بکر اور حضرت زید اور چند لوگوں نے انھیں تسلیم کیا۔ اور ان پر ایمان لے آئے۔
تین سال تک تو حضرت محمد صاحب چپکے چپکے اپنے چند دوستوں اور رشتے داروں کو خدا کا حکم سناتے رہے۔ آخر ایک دفعہ تمام رشتے داروں، دوستوں اور قبیلے والوں کو جمع کر کے ان کو بتلایا کہ میں خدا کی طرف سے تمھیں اس وحدہ لاشریک کی پرستش کی تلقین کرنے اور برائیوں سے بچانے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ یہ سن کر لوگوں نے بہت شور مچایا۔ اور کہا کہ تو غلط کہتا ہے۔ مگر انھوں نے کچھ پرواہ نہیں کی اور باقاعدہ مختلف مقامات پر وعظ کرنا شروع کر دیا۔ لوگوں نے حضرت کے چچا ابو طالب کے پاس جا کر کہا تو اپنے بھتیجے کو سمجھا کہ اس کفر سے باز آئے ورنہ ہم اس کے ساتھ بہت برا سلوک کریں گے۔ ابو طالب نے بہت سمجھایا کہ بیٹا مفت میں تم کیوں لوگوں سے بیر باندھتے ہو۔ مزے سے زندگی بسر کرو۔ نہ جانے یہ لوگ غصہ میں آ کر کیا کر بیٹھیں ۔ مگر محمد صاحب نے کہا کہ چاہے ادھر کی دنیا ادھر ہو جائے میں اپنے ارادے سے باز نہیں آ سکتا۔ خدا نے میرے سپرد یہ کام کیا ہے۔ اس کا بجالانا میرا فرض ہے ۔ چاہے ایسا کرنے میں میری جان تک بھی جاتی رہے ۔ جب ابو طالب کو یہ معلوم ہوا کہ محمد اپنے ارادے میں پہاڑ کی طرح مضبوط ہے تو کہا۔ اچھا کچھ ہی ہو میں تیری حفاظت کروں گا۔ چچا کی زبان سے یہ حوصلہ افزا الفاظ سن کر ان کا جوش بہت زیادہ بڑھ گیا۔ اور خوب زور سے اپنے مشن کا پرچار کرنا شروع کر دیا۔ اب حضرت صاحب کے پیروؤں کی تعداد روز بروز زیادہ ہوتی گئی اور ساتھ ہی ساتھ قریشیوں کی مخالفت بھی بڑھ گئی۔ انھوں نے ان کو طرح طرح کے لالچ دئے۔ دھمکیاں بھی دیں۔ ان کو قتل کرنے کا ارادہ بھی کیا۔ مگر انھوں نے ان کی
‹ Previous page Next page › Contents of October 1979 All issues