BIRDS-EYE
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲
ایسا کیوں ؟
انجیل کے مطابق، فلسطین کے وہودیوں نے جب حضرت مسیح کی پیغمبری کو ماننے سے انکار کر دیا تو فر میں انھوں نے کو کا فرقرار دے کر مار ڈالنے کی سازش کی۔ ان کے مذہبی سردار نے کہا: وہ قتل کے لائق ہے۔ اس پر انھوں نے اس کے منھ پر تھوکا اور اس کے مک مارے ۔ جب صبح ہوئی تو سب سردار کاہنوں اور قوم کے بزرگوں نے یسوع کے خلاف مشورہ کیا کہ اسے مار ڈالیں ۔ وہ اسے باندھ کر لے گئے اور پیلاطس حاکم کے حوالے کیا۔ رومی حاکم کا دستور تھا کہ عید پر لوگوں کی خاطر ایک قیدی جسے وہ چاہتے تھے چھوڑ دیتا تھا۔ اس وقت برابا نام کا ان کا ایک مشہور ڈاکو قیدی تھا۔ پس جب وہ اکھٹے ہوئے تو پیلاطس نے ان سے کہا: تم کسے چاہتے ہو کہ میں تمھاری خاطر چھوڑ دوں۔ برابا ڈاکو کو یا یسوع کو جو مسیح کہلاتا ہے۔ کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ انھوں نے اس کو حسد سے پکڑوایا ہے۔ انھوں نے کہا برابا کو۔ پیلاطس نے ان سے کہا پھر یسوع کو جو مسیح کہلاتا ہے کیا کروں۔ سب نے کہا وہ مصلوب ہو۔ اس نے کہا کیوں ۔ اس نے کیا برائی کی ہے۔ مگر وہ اور بھی چلا کر کہنے لگے وہ مصلوب ہو۔ جب پیلاطس نے دیکھا کہ کچھ بن نہیں پڑتا بلکہ الٹا بلو ہو جاتا ہے تو پانی لے کر لوگوں کے روبرو اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا: میں اس راست باز کے خون سے بری ہوں۔ تم جانو۔ سب لوگوں نے جواب میں کہا: اس کا خون ہماری اور ہماری اولاد کی گردن پر۔ اس پر اس نے برابا کو ان کی خاطر چھوڑ دیا اور یسوع کو کوڑے لگوا کر حوالہ کیا کہ مصلوب ہو۔ اس پر حاکم کے سپاہیوں نے یسوع کو قلعہ میں لے جا کر ساری پلٹن اس کے گرد جمع کی اور اس کے کپڑے اتار کر اسے قرمی چوخہ پہنایا اور کانٹوں کا تاج بنا کر اس کے سر پر رکھا اور ایک سرکنڈا اس کے ہاتھ میں دیا اور اس کے آگے گھٹنے ٹیک کر اسے ٹھٹھوں میں اڑانے لگے کہ اے یہودیوں کے بادشاہ آداب۔ اور اس پر تھوکا اور ہی سرکنڈالے کر اس کے سر پر مارنے لگے ۔ اور جب اس کا ٹھٹھا کر چکے تو چونہ کو اس پر سے اتار کر پھر اس کے کپڑے اسے پہنائے اور مصلوب کرنے کو لے گئے ۔ (متی باب ۲۷)
یہودیوں نے اپنی تاریخ کے مطابق ، یسعیاہ نبی، یرمیاہ نبی، زکریا نبی، یحیی نبی کو قتل کیا۔ عیسیٰ مسیح کو بھی اپنے خیال کے مطابق قتل کر ڈالا۔ تاہم اللہ نے آنجناب کو بچالیا۔ اسی طرح انھوں نے سیکڑوں کی تعداد میں اپنی قوم کے صالحین کو قتل کیا۔ یہ غیر معمولی سنگ دلی ان سے کیوں ظاہر ہوئی۔ اس کی وجہ صرف ایک تھی: تنقید کو برداشت نہ کرنا۔ انبیاء اور ان کے سچے پیرو یہود کی برائیوں پر ٹوکتے تھے اور ان کو انصاف کی تلقین کرتے تھے ( ویقتلون الَّذِینَ یأمرون بالقسط، آل عمران (۲۱) یہود نے اپنی بے دین زندگی پر دین کا لیبل لگا رکھا تھا۔ داعیانِ حق جب اس کی حقیقت کھولتے تو وہ بگڑ جاتے۔ ۔ یہی صورت حال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت پیش آئی۔ یہود اپنے آپ کو اس حیثیت سے پیش کرتے تھے کہ وہ آسمانی ہدایت کے حامل ہیں ۔ وہ نبیوں کی اولاد ہیں۔ یہ دین خداوندی کے نمائندے ہیں۔ ایسی حالت میں ان کو محسوس ہوا کہ قرآن کی دعوت ان کی دینی حیثیت کو بے اعتبار بنا رہی ہے۔ وہ ان کو دینی پیشوائی کی گدی سے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues