Al-Risala · November 1979 · page 3

BIRDS-EYE

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳

اتار رہی ہے۔ وہ آپ کی دعوت کے سخت مخالف ہو گئے۔ حتی کہ مشرکین سے بھی زیاوہ (مائوہ۔ ۸۲) مکہ کے مشرکین نے یہودی علماء سے پوچھا : دینا خیرا من محمد (ہمارا دین اچھا ہے یا محمد کا دین) یہودیوں نے جواب دیا بل دینکم خیر من دینه (تمھارا دین محمد کے دین سے اچھا ہے) انھوں نے آپ کو اور آپ کی دعوت کو ختم کرنے کے لئے ہر نا جائز کو اپنے لئے جائز کر لیا۔ سازش، ظلم، عہد شکنی، بے انصافی، قتل یہ سب چیزیں ان کی شریعت میں حرام تھیں مگر اسلام کی دعوت کو مٹانے کے لئے یہ سب چیزیں ان کے لئے حلال بن گئیں۔ آسمانی کتاب کے حامل گروہ میں یہ قساوت (سخت دلی) کیسے آتی ہے کہ وہ ڈاکوؤں کو گوارا کرے اور ایک بے ضرر بنوہ خدا کو عدالت میں گھسیٹے ۔ وہ کفار و مشرکین کا استقبال کرے اور اللہ کی طرف بلانے والے شخص کا بدترین دشمن بن جائے۔ وہ خدائی ہدایت کے نام پر قیادت حاصل کرے اور جب خدائی ہدایت پر عمل کرنے کے لئے کہا جائے تو دہ کہنے والے کے لئے بھیڑے سے زیادہ بے رحم ثابت ہو۔ وہ دین خداوندی کو دنیوی کو دنیاوی کار بار بنائے اور جب اس پر اسے ٹوکا جائے تو دہ اس کو ذبح کرنے پر آمادہ ہو جائے۔ اس کے سامنے کھلے کھلے دلائل اور نشانیاں آئیں مگر وہ بے پروائی کے ساتھ ان کو نظر انداز کردے ۔ اس بدترین قساوت کی وجہ، قرآن کے مطابق، دہ خود ساختہ عقیدہ ہے جو اس کو خدا کی پکڑ سے بے خوف بنا دیتا ہے :

ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً یہ اس سبب سے کہ انھوں نے کہا کہ ہم کو آگ نہیں مَّعْدُودَاتٍ وَغَرَّهُمْ فِي دِينِهِمْ مَّا كَانُوا چھوئے گی بجز چند گنے ہوئے دنوں کے۔ جو کچھ یہ گھڑتے ہیں اس نے ان کو ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔

دینی تعلیمات کا خود ساختہ مطلب نکال کر یہود نے یہ عقیدہ بنا لیا تھا کہ جنت ان کے لئے لکھی جا چکی ہے۔ ان کے انبیاء اور بزرگ اس وقت تک جنت میں نہ جائیں گے جب تک تمام اسرائیلیوں کو جنت میں داخل نہ کر لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "جہنم کی آگ اسرائیلی گنہگاروں پر کوئی قدرت نہیں رکھتی "؛ اور بالفرض کسی بداعمالی کی وجہ سے دوزخ میں جانا ہوا تو وہ صرف چند دن (زیادہ سے زیادہ چالیس دن) کے لئے ہوگا۔ اس قسم کا عقیدہ جب کسی گروہ میں پیدا ہو جائے تو اس کے اندر سے عذاب آخرت کا کھٹکا نکل جاتا ہے۔ وہ ظلم اور سرکشی کے لئے بے حد جری ہو جاتا ہے۔ اس کو جب کسی سے عداوت ہوتی ہے تو اس کو ذلیل اور ناکام کرنے کے لئے وہ کسی حد پر نہیں رکتا۔ کیوں کہ آدمی کو روکنے والی چیز جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کا اندیشہ ہے اور اس سے وہ پہلے ہی محفوظ ہو چکا ہے۔

آدمی ہمیشہ ایسی آواز کا دشمن ہو جاتا ہے جس میں اس کو اپنی حیثیت کی نفی ہوتی ہوئی دکھائی دے۔ اور جب معاملہ دینی حیثیت کی نفی کا ہو تو آدمی کا رد عمل اور بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ کیوں کہ ایسی صورت میں نہ صرف دنیوی حیثیت مجروح ہوتی بلکہ آخرت کا انعام بھی مشتبہ ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues

Printed page