Al-Risala · November 1979 · page 4

حکمت کے موتی کون پا تا ہے

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴

حکمت کے موتی کون پا تا ہے

قرآن میں جو کر دار بیان ہوئے ہیں ، ان میں سے ایک قارون ہے۔ وہ ایک اسرائیلی تھا اور موسیٰ علیہ السلام کا ہم عصر تھا۔ مصر کے قبطی حکمرانوں کا ساتھ دے کر اس نے بے حساب دولت اپنے پاس جمع کر لی تھی۔ ایک روز وہ اپنی پوری شان کے ساتھ لوگوں کے سامنے نکلا۔ اسرائیلیوں میں سے کچھ لوگ اس کو دیکھ کر مرعوب ہو گئے۔ انھوں نے کہا : قارون بھی کیسا خوش قسمت ہے۔ کاش ہم کو بھی وہ چیز حاصل ہوتی جو اس کو ملی ہوئی ہے۔ اسرائیلیوں میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو سچائی کو پائے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا: قارون کی دنیوی شان و شوکت پر رشک نہ کرو۔ ان چیزوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل خوش قسمتی تو یہ ہے کہ آدمی کو آخرت کی کامیابی حاصل ہو۔ اور آخرت کی کامیابی کا کوئی تعلق دنیا کی چمک دمک سے نہیں ہے۔ وہ تو صرف انھیں کو ملے گی جو سچے مومن ہوں اور وہ کام کریں جو اللہ کو پسند ہے۔ اسرائیلی علماء کا یہ جواب نقل کرنے کے بعد قرآن میں ارشاد ہوا ہے :

وَلَا يُلَقَّىهَا اِلَّا الصَّبِرُونَ (قصص ۸۰) اور یہ بات انھیں کو دی جاتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں یعنی حقیقت کا یہ مقام کہ آدمی دنیا کی شان و شوکت سے اوپر اٹھ کر حقیقت کو دیکھ سکے ، بڑے تپ کا مقام ہے۔ یہ انھیں لوگوں کے حصہ میں آتا ہے جو دنیا کی زینتوں کی طرف دوڑنے سے اپنے کو بچائیں۔ جو اپنی سوچ اور اپنی دلچسپیوں کو نمائشی چیزوں میں نہ الجھائیں۔ جو وقتی ہنگاموں میں کھونے کے بجائے ابدی کائنات میں مصروف رہتے ہوں۔ جو دنیا سے گزر کر آخرت میں جینے لگے ہوں۔ یہ بڑے تپ کا کام ہے۔ اس میں اپنے آپ کو جانتے بوجھتے ذبح کر دینا پڑتا ہے۔ مگر اعلیٰ سچائی کو پانے کا دوسرا کوئی راستہ نہیں۔ رجھانے والی دنیا میں رہ کر جو اپنے آپ کو دیکھنے سے بچا سکے۔ اسی پر بالاتر حقیقتوں کا راز کھلتا ہے۔ جو سامنے کی چمک دمک میں کھو گیا وہ کبھی آگے کی اعلیٰ تر چیزوں سے آشنا نہیں ہو سکتا۔ دنیوی ہوشیاری دکھانا بلاشبہ دنیا میں آدمی کو عزت اور ترقی عطا کرتا ہے۔ مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ ” دنیوی ہوشیاری‘‘ ہی وہ چیز ہے جو آدمی کو آخرت کی ہوشیاری سے محروم کر دیتی ہے۔ آخرت کی عقل اسی کے حصہ میں آتی ہے جو دنیا کی محرومیوں کو جھیلنے کے لئے تیار ہو، جو دنیوی مصلحتوں کو حق کی خاطر قربان کر سکے، جو ظاہری عزتوں پر گم نامی کی زندگی کو ترجیح دے سکے ، جو عوامی مقبولیت کو عوامی نامقبولیت کے بدلے میں دے سکے ، جو جلتے ہوئے مفادات کی قیمت دے کر ذاتی نقصان کو خرید سکے ، جو نفس کی تسکین کو چھوڑ کر نفس کو دبانے کے راستہ پر چلنے کے لئے تیار ہو۔ دنیا کی رونقوں میں نہ بہنا بڑا پر مشقت عمل ہے مگر اسی شخص پر معرفت حق کے دروازے کھلتے ہیں جو اس مشقت کو برداشت کرے ۔ دنیا کی محرومی پر قانع ہو نا بڑے صبر کا کام ہے مگر جو دنیا کی محرومیوں پر صبر کرتا ہے وہی وہ شخص ہے جس کو اس لئے چنا جاتا ہے کہ حکمت کے موتیوں سے اس کے دامن کو بھر دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues

Printed page