Al-Risala · November 1979 · page 7

توہم پرستی کہاں تک لے جاتی ہے

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۷

فرانس کے مشہور ٹاؤن (Rouen) میں ۱۲۰۰ اور ۱۲۲۵ء کے درمیان چھ بار آگ لگی۔ ہر بار پورا شہر جل کر خاک ہوگیا کیوں کہ اس وقت فرانس میں آگ بجھانے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ ۱۲۰۰ء تک یورپ کے کسی شہر میں پختہ سڑکیں نہیں پائی جاتی تھیں، لوگ گھر کا کوڑا سڑکوں پر ڈال دیا کرتے تھے جس کی صفائی کے لئے کوئی سرکاری انتظام موجود نہ تھا۔ رات کے وقت کوئی آدمی گھر سے نکلتا تو وہ لالٹین لے کر نکلتا۔ کیوں کہ شہروں میں روشنی کا رواج نہ تھا۔ آج کی طرح پولیس کا انتظام نہ تھا۔ ہر شخص کو اپنی حفاظت خود کرنی پڑتی تھی۔ یہ دور جس کو "قرون وسطیٰ" کا دور کہا جاتا ہے، اس وقت یورپ کے شہروں میں بد نظمی عام تھی، مکانات معمولی مٹی کے ہوتے تھے۔ اس قسم کی تفصیلات پیش کرنے کے بعد عالمی انسائیکلو پیڈیا کا مقالہ نگار لکھتا ہے :

”یہاں قرون وسطیٰ کے شہروں کی بابت جو کچھ لکھا گیا اس کا کوئی جزء اس شان دار تہذیب پر چسپاں نہیں ہوتا جو اس زمانہ میں مسلمانوں نے اسپین میں قائم کی تھی۔ مسلمانوں کا شہر قرطبہ قرون وسطیٰ میں یورپ کا سب سے بڑا شہر تھا، اس کے باشندے اعلیٰ ترین معیار زندگی پر فخر کر سکتے تھے جو یورپ میں کہیں بھی سیکڑوں برس تک موجود نہ تھا“ World Book Encyclopedia (1963) Vol. 12(M) p. 429 مسلمان جو کسی وقت ساری دنیا میں سب سے آگے تھے، آج دنیا بھر میں سب سے پیچھے کیوں ہوگئے ۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ ان کے اندر تعمیری ذہن نہیں، موجودہ زمانہ میں مسلمان اگر چہ بہت بڑے پیمانہ پر سرگرمیاں دکھارہے ہیں۔ مگر یہ سرگرمیاں منفی ذہن کی پیداوار ہیں نہ کہ مثبت ذہن کی پیداوار۔ دور اول کے مسلمانوں کو قرآن کے ایجابی فکر نے متحرک کیا تھا، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو جس چیز نے متحرک کیا ہے وہ صرف وہ شکایتیں ہیں جو ان کو دوسری قوموں سے پیدا ہوئی ہیں۔ شکایتی ذہن کے تحت کبھی تعمیری سرگرمیاں وجود میں نہیں آئیں ۔ شکایت اور احتجاج کی زمین پر صرف شور وغل اور منفی ہنگاموں کی فصل اگتی ہے اور وہی آج بہت بڑے پیمانہ پر ہمارے یہاں اگی ہوئی ہے۔

توہم پرستی کہاں تک لے جاتی ہے

اہل کارتھیج اور رومیوں کی مشہور جنگ میں جب کارتھیج کے باشندوں کو شکست ہوئی تو انھوں نے سمجھا یہ اس غلطی کا نتیجہ ہے جو مولود ک دیوتا کی عبادت کے سلسلہ میں ان سے ہوتی رہی ہے۔ یہ دیوتا ان کے عقیدے کے مطابق ان کے اشراف کے لڑکوں کی قربانی پسند کرتا تھا۔ مگر کارتھیج کے اعلیٰ خاندانوں نے اپنے لڑکوں کو بچانے کے لئے کئی سال یہ کیا کہ وہ قربانی کے دن چپکے سے کسی معمولی لڑکے کو پکڑ کر اسے قربان کر دیتے تھے۔ جب انھیں شکست ہوئی تو انھوں نے سمجھا کہ ان کی اس بد عنوانی کی وجہ سے دیوتا ناراض ہوگیا ہے۔ چنانچہ اعلیٰ خاندان کے کئی لڑکے مقدس آگ میں جھونک دئے گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues

Printed page