عبرت کے لئے
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۸
عبرت کے لئے
اخبار الاہرام (قاہرہ) کے سابق ایڈیٹر محمد ہیکل کی ایک ۲۸۵ صفحات کی کتاب ہے۔ اصل کتاب انگریزی میں دی روڈ ٹو رمضان کے نام سے چھپی ہے اور اس کا عربی ترجمہ الطریق الی رمضان کے نام سے شائع ہوا ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں اکتوبر ۱۹۷۳ء کی مصر۔ اسرائیل جنگ اور اس سے چھ سال پہلے کے حالات پر اپنی معلومات پیش کی ہیں۔ پوری کتاب دل چسپ واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ اس سلسلہ میں چند واقعات یہاں عبرت کے لئے نقل کئے جاتے ہیں وہ ایٹم بم خریدنے گئے لیبیا کے فوجی انقلاب ستمبر ۱۹۶۹ء کے بعد صدر معمر قذافی قاہرہ آئے) ایک موقع پر جب کہ صدر ناصر ان کو بتا رہے تھے کہ اسرائیل اور عربوں کے درمیان ٹینک، ہوائی جہاز وغیرہ میں طاقت کی نسبت کیا ہے ۔ قذافی نے بھڑک کر کہا: نہیں ، نہیں ۔ ہمیں سیدھے ایک بھر پور جنگ کرنا چاہئے اور اسرائیل کا خاتمہ کر دینا چاہئے۔ ناصر نے ضبط کرتے ہوئے کہا یہ نا ممکن ہے۔ بین الاقوامی صورت حال ہم کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گی ۔ نہ روس اور نہ امریکہ ایسی صورت حال پیدا ہونے کی اجازت دیں گے جس سے ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہو۔ قذافی نے پوچھا: ” کیا اسرائیل کے پاس ایٹم بم ہیں؟ ناصر نے کہا: ہاں اس کا غالب امکان ہے۔ قذافی نے دوبارہ پوچھا: کیا ہمارے پاس بھی ایٹم بم ہیں۔ ناصر نے کہا : نہیں ۔ ہمارے پاس نہیں ہیں ۔
دو یا تین ماہ بعد لیبیا کی دوسرے درجہ کی بڑی شخصیت میجر جالود اچانک مصر آئے اور ناصر سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا یہ سفر بہت خفیہ ہے اور ان کا واحد مقصد صدر ناصر سے ملنا ہے۔ صدر ناصر نے ملاقات کے وقت پوچھا کہ ان کو کیا مشورہ درکار ہے۔ جالود نے کہا: ہم ایک ایٹم بم خریدنے جا رہے ہیں۔ ناصر نے پوچھا وہ کہاں سے اس کو خریدنے جا رہے ہیں۔ جالود نے کہا کہ ان کو معلوم ہے کہ امریکی اور روسی ہمارے ہاتھ ایٹم بم بیچنے کے لئے تیار نہ ہوں گے۔ مگر امید ہے کہ چینی اس کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ ناصر نے کہا کہ جہاں تک وہ جانتے ہیں ایٹم بم خرید کر کبھی حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ جالود نے کہا: ہم کوئی بڑا ایٹم بم نہیں چاہتے۔ بس جنگی تدبیر کے طور پر ایک (اوسط درجہ کا بم کافی ہوگا۔ ہم نے چینیوں سے رابطہ قائم کیا اور ان سے کہا کہ ہم اپنا ایک آدمی وہاں ملاقات اور گفتگو کے لئے بھیجنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم خیر مقدم کے لئے تیار ہیں۔ اب میں چین جا رہا ہوں ۔ جالود بھیس بدل کر روانہ ہوئے ۔ انھوں نے لیبی پاسپورٹ کے بجائے مصری پاسپورٹ لیا اور پاکستان اور ہندوستان کے راستے سے سفر کر کے پیکنگ پہنچے۔ چینیوں کو خبر نہ تھی کہ اس سفر کا مقصد کیا ہے۔ مگر چو این لائی کے ساتھ ملاقات کا ایک وقت مقرر ہو گیا۔ اس ملاقات میں لیبیا کی انقلابی کونسل کے نائب صدر نے بتایا کہ وہ ایک بہت ضروری معاملہ کے لئے پیکنگ آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چین تمام ایشیائی ملکوں کے لئے باعث فخر ہے۔ الرسائل نومبر ۱۹۷۹ء
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues