--- The Birthday of my soul
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۳
کامیابی کا راز
کامیابی کا راز یہ ہے کہ آپ اپنے اندر کوئی امتیازی خصوصیت پیدا کریں خواہ وہ خصوصیت کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ ایک ڈاکٹر نے مطب شروع کیا اور تھوڑے ہی دنوں میں کامیاب ہو گیا۔ انھوں نے یہ خصوصیت دکھائی کہ وہ ہر آنے والے مریض کو سلام میں پہل کرتے۔ عام طور پر ڈاکٹر لوگ اس کے منتظر رہتے ہیں کہ مریض ان کو سلام کرے۔ یہاں ڈاکٹر نے خود مریض کو سلام کرنا شروع کر دیا۔ یہ طریقہ کامیاب رہا اور جلد ہی ان کا مطب خوب چلنے لگا۔ حالانکہ وہ باقاعدہ سند یافتہ نہیں تھے۔ صرف "آر۔ ایم۔ پی" تھے۔
ایک دکان دار نے دیکھا کہ گاہک کے پاس اگر کئی نوٹ میں تو عام طور پر وہ میلے اور پھٹے ہوئے نوٹ دوکان دار کو دیتا ہے اور اچھے اور صاف نوٹوں کو بچا کر جیب میں رکھتا ہے۔ اس سے دکان دار نے سمجھا کہ گاہک صاف نوٹ کو پسند کرتا ہے۔ اس نے گاہک کی اس نفسیات کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے یہ اصول بنایا کہ جب کوئی گاہک اس سے سامان خریدے گا اور قیمت ادا کرنے کے لئے بڑا نوٹ دے گا تو وہ حساب کرتے وقت ہمیشہ گاہک کو نئے اور صاف نوٹ لوٹائے گا۔ دکان دار کے بکس میں ہر طرح کے نوٹ ہوتے۔ مگر جب وہ گاہک کو دینے کے لئے اپنا بکس کھولتا تو پرانے اور پھٹے ہوئے نوٹوں کو الگ کرتا جاتا اور نئے نوٹ چھانٹ کر گاہک کو دیتا۔ نئے نوٹ حاصل کرنے کے لئے اس نے یہ کیا کہ اپنے تمام پرانے نوٹ جمع کر کے اپنے بینک کو دے دیتا اور اس کے بدلے بینک سے چھوٹے نئے نوٹ حاصل کر لیتا۔ وہ نئے نوٹوں کو اپنے بکس کے پرانے نوٹوں میں ملا دیتا تاکہ گاہک کے سامنے دونوں قسم کے نوٹ ہوں اور وہ دیکھے کہ اس کا دکان دار بس کے خراب نوٹوں کو الگ کرتا جا رہا ہے اور صاف نوٹوں کو چھانٹ چھانٹ کر اسے دے رہا ہے۔
دکان دار کی یہ تدبیر بظاہر معمولی اور بے قیمت تھی، مگر اس نے گاہکوں کو بے حد متاثر کیا۔ وہ سمجھے کہ اس کا دکان داران کا بہت خیال کرتا ہے۔ دھیرے دھیرے اس نے اس معمولی تدبیر سے گاہکوں کے دل جیت لئے۔ اس کی دکان اتنی کامیاب ہو گئی کہ ہر وقت اس کے یہاں بھیڑ لگی رہتی (۲ جون ۱۹۷۲) جب کھرا اور کھوٹا الگ کیا جائے گا جھوٹی انسانیت اور لفظی بہادری کسی کے کام آنے والی نہیں۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ پردہ پھٹ جائے اور ہر آدمی اپنی اصل صورت میں سامنے آ جائے۔ اس وقت کتنے عزت والے ذلت کے گڑھے میں پڑے ہوئے دکھائی دیں گے۔ کتنے انصاف اور انسانیت کا نعرہ لگانے والے انصاف اور انسانیت کے قاتل قرار دئے جائیں گے ۔ کتنے بہادری کا ٹائٹل لینے والے بزدلی کی کالک سے روسیاہ ہورہے ہوں گے۔ کتنے اسلام اور ملت اسلام پر فدا ہونے والے اس حال میں نظر آئیں گے گویا کہ اسلام اور ملت اسلام سے ان کا کوئی تعلق ہی نہ تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues