دعوتِ حق کے مقابلہ میں مختلف ردِ عمل
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۴
دعوتِ حق کے مقابلہ میں مختلف ردِ عمل
دعوتِ حق کے مقابلہ میں مختلف انسانوں کی طرف سے جو رد عمل سامنے آتا ہے ، اس کو تین بڑی قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک وہ لوگ جن کی فطرت زندہ ہوتی ہے۔ سچائی کو قبول کرنے کے لئے جن کے سینے کھلے ہوتے ہیں ۔ تعصب، کج فہمی ، مصلحت پرستی کا کوئی پردہ ان کے دل و دماغ کو گھیرے ہوئے نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کے سامنے جب سچائی آتی ہے تو وہ ان کو بالکل اپنے دل کی بات نظر آنے لگتی ہے۔ وہ بے اختیار اس کی طرف کھنچ اٹھتے ہیں۔ ان کی طرف سے فی الفور سچائی کی آواز کو مثبت جواب دیا جاتا ہے۔ وہ اتنی جلد اس کی حقیقت کو پا لیتے ہیں اور اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں جیسے وہ پہلے ہی سے اس کے انتظار میں تھے :
یکاد زيتها يضيئ ولو لم تمسسه نار (نور) قریب ہے کہ اس کا تیل روشن ہو جائے اگر چہ اس میں آگ نہ لگی ہو دوسرے لوگ وہ ہیں جن کی نفسیاتی پیچیدگیاں ان کو ابتدائی مرحلہ میں حق کو سمجھنے نہیں دیتیں ۔ وہ اس کو " حق کا مسئلہ “ نہیں سمجھتے ۔ اپنی ضد اور ٹیڑھ کی وجہ سے حق کی آواز ان کو عجیب عجیب روپ میں دکھائی دیتی ہے۔ وہ اس کے مخالف بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کو کچل دینا چاہتے ہیں۔ تاہم وہ وقت آتا ہے جب ان کی فطرت ان کی ضد پر غالب آتی ہے۔ سچائی کے خلاف اپنے دلائل کا بے وزن ہونا ان پر کھل جاتا ہے۔ ان کی اندرونی آواز بول پڑتی ہے کہ وہ سراسر غلطی پر تھے ، اور بات وہی صحیح ہے جو حق کے داعی کی طرف سے کہی جارہی تھی۔ اس وقت وہ تحفظ ذہنی اور مصلحت پرستی کے تمام لبادے اتار کر سچائی کا اعتراف کر لیتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں کہ حق ہے : قالت امرأت العزيز الآن حصحص الحق (یوسف) وزیر مصر کی عورت نے کہا : اب کھل گئی سچی بات تیسرا گروہ وہ ہے جو سچائی کی آواز پر اندھے بہرے کی طرح ٹوٹ پڑتا ہے۔ اس کا مصلحت پرستانہ ذہن ، اس کی متعصبانہ نفسیات اور اس کی بڑھی ہوئی انانیت اس کے مزاج کو اتنا زیادہ بگاڑ دیتے ہیں کہ حق بات اپنی سیدھی اور صاف شکل میں اس کے ذہن کے خانہ میں نہیں بیٹھتی۔ وہ ہر بات کا الٹا مطلب نکالتا ہے۔ اور ہر دلیل کو رد کرنے کے لئے کچھ دل فریب الفاظ تلاش کر لیتا ہے۔ اس کا یہ مزاج اتنا پختہ ہو چکا ہوتا ہے کہ ابتداء اگر وہ غلط فہمی کی وجہ سے حق کی طرف نہ بڑھا ہو تو بعد کو اس کی نوعیت واضح ہو جانے پر بھی اس کو قبولیت کی توفیق نہیں ہوتی۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سوال اس کے لئے رکاوٹ بن جاتا ہے کہ اگر میں نے اعتراف کر لیا تو میرا وقار باقی نہیں رہے گا : واذا قيل له اتق الله اخذته العزة بالاثم (بقرہ) اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو اس کا غرور اس کو گناہ پر آمادہ کر دیتا ہے۔
اللہ کے یہاں سب سے افضل وہ لوگ ہیں جو حق کے اعلان کو سنتے ہی اس کی طرف دوڑ پڑیں۔ اسی طرح وہ لوگ بھی اللہ کی رحمت میں حصہ دار ہوں گے جو ابتدائی رکاوٹ کے بعد اس کی آواز کو پہچان لیں اور اس کے آگے جھک جائیں۔ باقی وہ جو اپنی برتری کی خاطر حق کی پکار کو نہ مانیں وہ اللہ کے نزدیک جانور ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ بدتر۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues