ایک ستارہ ــ ایک ارب سورج ہے بھی زیادہ روشن
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۵
ایک ستارہ ــ ایک ارب سورج ہے بھی زیادہ روشن
برسات کے موسم میں جب فضا بالکل صاف ہوتی ہے، آسمان پر لمبے نور کے بادل دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ہماری کہکشاں ہے جس کے اندر ہمارا سورج واقع ہے۔ نور کے بادل حقیقتاً بادل نہیں ہیں بلکہ بے شمار ستاروں کے مجموعے ہیں جو دور ہونے کی وجہ سے ملے ملے دکھائی دیتے ہیں۔ امگر آپ دوربین سے دیکھیں تو بادل کے بجائے آپ کو الگ الگ ستارے دکھائی دیں گے۔ زمین سے بارہ لاکھ گنا سورج بڑا بظاہر بہت بڑا نظر آتا ہے۔ گر کہکشاں کے اکثر ستارے اس سے بھی زیادہ بڑے ہیں۔ اس طرح کے بے شمار کہکشانی مجموعے کائنات کی وسعتوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔
فلکیات کی حیران کن دریافتوں میں سے ایک وہ ہے جس کو کوئیسار (Quasar) کہا جاتا ہے۔ کائنات کے انتہائی بعید کناروں پر واقع یہ ستارے بے حد روشن ہیں۔ ایک پوری کہکشاں جس میں سورج یا اس سے بڑے بڑے ایک ارب ستارے ہوں، جتنی انرجی (روشنی اور حرارت) خارج کرتی ہے، اتنی زیادہ انرجی تنہا ایک کوئیسار خارج کرتا ہے۔ اس قسم کے ستارے وسیع خلا میں سیکڑوں کی تعداد میں معملوم کئے گئے ہیں۔ مزید عجیب بات یہ پائی گئی ہے کہ یہ ستارے اکثر جوڑے جوڑے ہیں جو ایک دوسرے کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔ کائنات میں انرجی پیدا ہونے کا سب سے طاقت ور عل جواب تک سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے وہ تھر مو نیو کلیری ایکشن (Thermonuclear Reaction) ہے۔ مگر کوئیسار سے خارج ہونے والی بے پناہ طاقت کی توجیہہ کے لئے وہ ناکافی ہے۔ قیاس ہے کہ کوئیسار میں انرجی پیدا ہونے کا طریقہ مکمل طور پر کوئی دوسرا طریقہ ہے جو دیگر ستاروں میں نہیں پایا جاتا۔
نعمتوں سے بھری ہوئی یہ زمین اللہ کے جمال کی مظہر ہے اور خلا کے دہشت ناک ستارے اللہ کے جلال کا مظہر ہیں۔ زمین اگر جنتی زندگی کی علامت ہے تو ستاروں کی شکل میں دہکتے ہوئے شعلے جہنم کی یاد دلاتے ہیں۔ آدمی اگر زمین و آسمان کی ان نشانیوں پر غور کرے تو اس کا سینہ خدا کی یاد سے بھر جائے گا۔ ظاہری بڑائی دیکھ کر بڑا سمجھ لینا قدیم زمانہ میں انسان کا حال یہ تھا کہ جس چیز کو بھی کچھ نمایاں دیکھا، اس کو معبود بنا لیا۔ بشار بن برد (م، ۱۷۰ھ) آگ کا مٹی پر تفوق ظاہر کرتے ہوئے کہتا ہے:
الارض مظلمة والنار مشرقۃ والنار معبودة مذ كانت النار زمین تاریک ہے اور آگ روشن ، اور آگ جب سے وجود میں آئی ہے، وہ معبود ہی سے یہ ذہن آج بھی موجود ہے۔ آج بھی انسان کا یہ حال ہے کہ جس کو کچھ نمایاں دیکھتا ہے اس کو اپنا سب کچھ بنا لیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues