Al-Risala · November 1979 · page 17

ایک سفر ـــــــــ

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۷

امکان کھول دیا ہے ۔ فوجی ضرورت کے تحت سارے علاقے میں کثرت سے سڑکاں بنائی گئی ہیں۔ جن کی تقسیم سے پہلے یہاں کے لوگوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ سڑکوں کے اس جال نے تجارت کے زبردست مواقع کھول دئے ہیں۔ زرعی زمین کم ہوکر تجارتی زمین بڑھ گئی ہیں۔ مگر مسلمان اکثریت میں ہونے کے باوجود، اس نئے امکان سے فائدہ اٹھانے میں سب سے پیچھے ہیں ۔

اس علاقے میں یہ بات عجیب نظر آئے گی کہ شہروں میں مسلمان غیر معمولی اقلیت میں ہیں۔ جب کہ ان شہروں کے ارد گرد پھیلے ہوئے دیہاتوں میں مسلمانوں کی غیر معمولی اکثریت ہے۔ اور اکثر زراعتی رقبے ان کے قبضہ میں ہے۔ اس فرق کی وجہ مسلمانوں کا تعلیم اور تجارت میں پیچھے ہو جانا ہے۔ شہری علاقے تعلیم اور تجارت کے علاقے ہوتے ہیں اس لئے شہروں میں انھیں لوگوں کو جگہ ملتی ہے جو تعلیمی لیاقت اور تجارتی سرگرمیوں کا ثبوت دے سکیں ۔ "زمینوں" کا مالک ہونے کے باوجود مسلمان جدید دنیا میں بے زمین ہو رہے ہیں۔

وادی کشمیر میں سفر کرنے والے کو ہر طرف سیب اور دوسری چیزوں کے باغات نظر آتے ہیں۔ مگر جموں کے علاقہ میں زیادہ تر دھان اور مکئی کی فصلیں ہی دکھائی دیتی ہیں۔ جہاں تک راقم الحروف کا اندازہ ہے جموں کا علاقہ پھلوں کے باغات کے لئے کم موزوں نہیں۔ پھر اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ آزادی سے پہلے "کشمیر" کے حصہ میں انگریز آباد ہوئے اور انھوں نے باغات لگائے۔ اس سے اس علاقہ میں باغ کی روایت چل پڑی۔ اس کے برعکس "جموں" کے علاقہ میں یہ روایت قائم نہ ہوسکی۔ اس لئے یہ علاقہ قدیم طرز کی زراعت پر قائم رہا۔ اور باغات کے معاملہ میں پیچھے ہو گیا۔ جموں کا پورا علاقہ پہاڑی نباتات سے بھرا ہوا ہے اور یہاں شہد کی مکھی پالنے کا زبردست امکان موجود ہے۔ مگر اس امکان سے بھی اب تک برائے نام ہی فائدہ اٹھایا جا سکا ہے۔ حکومت کی طرف سے شہد کی مکھی اور اس کے بکس معمولی قیمت پر فراہم کئے جاتے ہیں۔ آدمی کو صرف اتنا کرنا ہے کہ وہ اس قسم کا ایک بکس حاصل کرے اور اس کو اپنے مکان کے پاس رکھ دے۔ بقیہ تمام کام مکھیاں خود اپنے نظام کے تحت انجام دیتی ہیں۔ یہ کام ہر گھر والا انجام دے سکتا ہے۔ مگر یہاں کے لوگ ابھی تک اس امکان سے بھی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ یہی حال دوسری بہت سی صنعتوں کا بھی ہے جو یہاں بہت آسانی سے قائم کی جاسکتی ہیں ۔

کشمیر کا مزدور سر کے بجائے پیٹھ پر سامان لادتا ہے۔ بسا اوقات وہ اپنے اوپر اتنا زیادہ سامان لاد لیتا ہے کہ دیکھنے والے کو اس کے اوپر چھوٹی موٹی گاڑی کا گمان ہونے لگتا ہے۔ حال اور مستقبل سے بے خبر یہ لوگ محنت کو اپنا کام سمجھتے ہیں اور باقی تمام امور کو حالات کے حوالے کئے ہوئے ہیں۔ تاہم خوش قسمت غیر مزدور طبقہ کا معاملہ بھی اس سے بہت زیادہ مختلف نہیں۔ مزدور اگر جاہلانہ بے خبری کا پشتا رہ اپنے اوپر لادے ہوئے ہے تو غیر مزدور لوگ اپنی عالمانہ بے شعوری کا۔ دونوں اپنے خیال کے مطابق ایک ایسے حسین مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں جو ان کے گمان کے مطابق خود بخود ان کی طرف آجائے گا، اگر چہ اس کے لئے انھوں نے نہ کوشش نہ کی ہو جو دنیا کے پیدا کرنے والے نے اس دنیا کے لئے مقدر کی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues

Printed page