Al-Risala · November 1979 · page 18

ایک سفر ـــــــــ

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۸

چند بزرگ آئے ۔ سلام اوپر مصافحہ کے بعد میرا ہاتھ اپنے سر پر رکھا اور دعا کے لئے کہا۔ جب میں آگے بڑھا تو ان کی آواز میرے کان میں آئی : " عالم دا دیدار کرنا ستر سال دی عبادت کے برابر ہے ۔ " اس سے اس علاقہ کے لوگوں کی سادگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ لوگوں کی اس سادگی اور بے خبری نے ان کو بعض سماجی فصلوں کے لئے نہایت زرخیز زمین بنا دیا ہے۔ جموں وکشمیر کی زمین میں بہترین کھیل پیدا ہوتے ہیں، اسی کے ساتھ وہ چند چیزوں کی پیداوار کے لئے موزوں ترین ثابت ہوئی ہے۔ ان میں سے تین چیزیں خاص ہیں۔ مذہبی بدعات، موت اور شادی وغیرہ کے مواقع پر مسرفانہ رسوم، اور انتہائی بے فائدہ قسم کی جذباتی سیاست ۔ یہ دوسری فصلیں اس جنت نظیر سر زمین میں اتنے بڑے پیمانہ پر اگتی ہیں کہ ملک کی دوسری ریاستوں میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔ اس قسم کے سماجی جھاڑ جھنکار ہمیشہ جہالت کی زمین پر آگتے ہیں اور ان کو ختم کرنے کی واحد کامیاب صورت یہ ہے کہ قوم کو تعلیم یافتہ بنا کر اس قسم کی تمام فصلوں کو ان کی زمین سے محروم کر دیا جائے ۔ ایک بستی میں میری قیام گاہ کے اوپر ایک پہاڑی ٹیلہ تھا۔ میں نے سوچا کہ اس کے اوپر جا کر بیٹھوں۔ جب میں چڑھ کر وہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کے آگے ایک اور ٹیلہ ہے۔ اب میں نے پھر چڑھنا شروع کیا جب دوسرے ٹیلہ پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کے اوپر ایک اور ٹیلہ ہے۔ میں پھر چڑھا۔ مگر جب اوپر پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کے اور ایک اور اس سے اونچا ٹیلہ ہے۔ " انسان آخری بلندی پر پہنچنا چاہتا ہے مگر وہ آخری بلندی پر نہیں پہنچ سکتا۔ " میں نے سوچا اور وہیں ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد ایک آدمی آیا جو وہاں اپنے کھیتوں کی دیکھ بھال کر رہا تھا۔ اس نے کہا: آپ یہاں کیسے آئے۔ میں نے کہا کہ میں دہلی میں رہتا ہوں۔ دہلی کی کثافت اور ہنگامہ مجھ کو اچھے نہیں لگتے۔ اس لئے میں یہاں آگیا تاکہ قدرت کی کھلی فضا میں سکون ححل کروں۔ " اس نے سامنے پھیلی ہوئی سر سبز وادی پر ایک نظر ڈالی اور پھر بولا: " پیداوار اگر وقت وقت پر ہوتی رہے تو اس جیسی کوئی جگہ نہیں۔ یہاں نہ سخت گرمی ہوتی ہے اور نہ سخت سردی۔ بارہ مہینے موسم خوش گوار رہتا ہے۔ اس وقت جو سرسبزی آپ دیکھ رہے ہیں یہی یہاں سال بھر رہتی ہے ۔ " یہاں کے لوگ اگر صرف کھیتی پر انحصار نہ کریں بلکہ اسی کے ساتھ باغ بانی کریں اور تعلیم و تجارت میں بھی حصہ لیں تو ان کو حالات سے اس قسم کی شکایت نہ رہے ۔ میدانی علاقوں میں نہروں کے ذریعہ آب پاشی ہوتی ہے۔ مگر پہاڑی علاقوں میں نہریں نکالنا اور نالیاں بنانا ممکن نہیں، کیوں کہ پانی کو نیچے سے اوپر کی طرف چڑھایا نہیں جاسکتا۔ اس مسئلہ کا اصل قدرت نے پہاڑی علاقوں میں بارش کی زیادتی سے کیا ہے، قدرت حالات سے مطابقت کرکے مسئلہ کو حل کرتی ہے مگر ہمارے " لاؤڈ اسپیکر" صرف ایک ہی بات چیخنا جانتے ہیں : حالات سے لڑ کر اپنا مسئلہ حل کرو۔

ایک پہاڑ پر لمبی تھکا دینے والی چڑھائی چڑھنے کے بعد ہم ہموار میدان میں پہنچے تو اس پر چلنا ایسا معلوم ہوا جیسے آدمی چل ہی نہ رہا ہو۔ یہی معاملہ زندگی کی جدوجہد کا ہے۔ زندگی کی جدوجہد اپنی ابتدا میں ایک مشکل سفر ہے۔ لیکن سفر کی ابتدائی مشکلوں کو برداشت کر لیا جائے تو بعد کا سفر اسی طرح آسان ہو جاتا ہے جیسے مشکل چڑھائی کے ]

‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues

Printed page