Al-Risala · November 1979 · page 22

برائیوں سے بچ کر نکل جانے کا نام تقویٰ ہے

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۲

برائیوں سے بچ کر نکل جانے کا نام تقویٰ ہے

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا ” تقویٰ کیا ہے“۔ انھوں نے پوچھنے والے سے کہا: ”کیا تم کبھی کانٹے دار راستے سے گزرے ہو۔ اس نے کہا ہاں۔ انھوں نے پوچھا: تم نے کیا کیا۔ سائل نے کہا: جب میں نے کانٹے کو دیکھا تو میں کنارے ہو گیا اور اس سے بچ کر نکل گیا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، ذاک التقویٰ (یہی تقویٰ ہے) اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنا اور بندوں کے لئے خیر خواہ ہونا جریر رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے لئے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے جریر: بیعت کے لئے ہاتھ بڑھاؤ۔ انھوں نے کہا کس چیز پر۔ آپ نے فرمایا :

ان تسلم وجهك، والنصيحة لكل مسلم (طبرانی) اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دو اور مسلمانوں کی خیر خواہی انھوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ وہ بہت سمجھ دار آدمی تھے۔ بیعت کرنے لگے تو کہا: یا رسول اللہ فیما استطعت (اے خدا کے رسول ! جتنا مجھ سے ہو سکے گا) اس کے بعد سب کے لئے یہی رخصت ہو گئی۔ دنیا کی حرص آدمی کو ہلاک کردیتی ہے عمر و بن عوف انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو جزیہ لانے کے لئے بحرین بھیجا۔ وہ بحرین سے مال لے کر آئے۔ انصار نے سنا کہ ابو عبیدہ رضا آگئے تو وہ صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو وہ سامنے آئے۔ آپ ان کو دیکھ کر مسکرائے۔ یہ آپ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم نے سن لیا کہ ابو عبیدہ بحرین سے کچھ لے کر آئے۔ انھوں نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا :

أبشرو ا وا ملو ا ما یسرکم۔ فواللہ ما الفقر بشارت ہو اور خوشی کی امید رکھو۔ خدا کی قسم میں تمھارے اخشى عليكم ولكني اخشى ان تُبسط الدنيا فقر کو نہیں ڈرتا۔ لیکن مجھے ڈر ہے کہ تمھارے اوپر دنیا عليكم كما بسطت على من كان قبلكم فتنافسوها اسی طرح پھیلادی جائے جس طرح تم سے اگلوں کے لئے كما تنافسوها فتهلککم كما اهلکتهم پھیلائی گئی تھی۔ تو تم اس میں حرص کرو جس طرح انھوں (متفق علیہ) نے حرص کی اور اس نے جس طرح ان کو ہلاک کیا تم کو بھی ہلاک کر دے۔

سب سے زیادہ عقل مند، سب سے زیادہ کمزور

حسن بن علی رضی اللہ عنہ جب امیر معاویہ رض کے حق میں خلافت سے دست بردار ہو گئے تو کوفہ کی مسجد میں آپ نے ایک تقریر کی اس میں دست برداری کے اسباب بتاتے ہوئے فرمایا :

الا ان التقی واعجز العجز الكيس الفجور سن لو، سب سے زیادہ دانا وہ ہے جو متقی ہے اور سب (الاستيعاب لابن عبد البر ، جلد اصفحہ ۳۷۴) سے زیادہ عاجز وہ ہے جو فاجر ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues

Printed page