Al-Risala · November 1979 · page 21

مقابلہ کا ایک طریقہ یہ بھی ہے

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۱

مقابلہ کا ایک طریقہ یہ بھی ہے

نپولین (۱۸۲۱ - ۱۷۶۹) جب پہلی قید کے بعد جزیرہ البا (Elba) سے بھاگا تو اس کے ساتھ اس کے وفادار سپاہیوں کی صرف ایک مختصر جماعت تھی۔ اس معزول تاجدار کے عزائم یہ تھے کہ وہ فرانس کے تخت پر دوبارہ قبضہ کرے۔ مگر پہلے ہی معرکہ میں اس کو فرانس کے ۲۰ ہزار جوانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ نپولین دنیا کے انتہائی بہادر جرنیلوں میں سے ایک ہے۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا کہ اپنی فوجی کمی کا لحاظ نہ کرتے ہوئے حریف سے ٹکرا جائے۔ جب دونوں فریق آمنے سامنے ہوئے تو وہ اکیلا بالکل غیر مسلح حالت میں اپنی جماعت سے نکلا اور نہایت اطمینان کے ساتھ فریق مخالف کی صفوں کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے کوٹ کے بٹن کھولے اور اپنے سینہ کو ننگا کر دیا۔ اس کے بعد جذباتی انداز میں اپنے مخالف سپاہیوں سے، جن میں سے اکثر اس کے ماتحت رہ چکے تھے، خطاب کر کے بولا :

”تم میں سے کون وہ سپاہی ہے جو اپنے باپ کے ننگے سینہ پر فائر کرنے کو تیار ہو “ اس کا اثر یہ ہوا کہ ہر طرف سے ”کوئی نہیں، کوئی نہیں کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ تمام سپاہی مخالف جماعت کو چھوڑ کر نپولین کے جھنڈے کے نیچے آگئے۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ نپولین اپنی بے سرو سامانی کے با وجود فاتح ہوا۔ اس نے ملک فرانس کے تخت پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ حالاں کہ اس وقت وہ جس بے سرو سامانی کی حالت میں تھا، اس کے ساتھ اگر وہ فرانس کی فوجوں سے لڑ جاتا تو میدان جنگ میں شاید اس کی لاش تڑپتی ہوئی نظر آتی۔ ایک واقعہ ڈاکٹر محمد اقبال کے پاس ایک بزرگ وراثت کے معاملہ میں قانونی مشورہ کے لئے آیا کرتے تھے۔ چونکہ ڈاکٹر صاحب داڑھی نہیں رکھتے تھے، وہ اکثر داڑھی کی اہمیت پر وعظ کہتے۔ آخر ایک دن ڈاکٹر اقبال نے کہا : آپ کی وعظ و تلقین کا میرے اوپر بہت اثر ہوا ہے۔ اب میں نے طے کیا ہے کہ آپ سے ایک معاہدہ کروں۔ جس طرح داڑھی نہ رکھنا ایک شرعی کو تاہی ہے، اپنی بہن کو وراثت سے محروم کرنا بھی اسی طرح شریعت کی خلاف ورزی ہے۔ پہلے گناہ میں میں مبتلا ہوں تو دوسرے میں آپ مبتلا ہیں۔ آئیے طے کیجئے ۔ آج سے میں داڑھی رکھ لیتا ہوں اور آپ اپنی بہن کا وراثتی حصہ دے دیں۔ بزرگ اس معاہدہ کے لئے تیار نہ ہوئے۔ انھوں نے اپنی بہن کو وراثت کا حصہ دیا اور نہ ڈاکٹر اقبال کے چہرہ پر دارھی آسکتی۔

آدمی کو اپنی غلطیوں کا پتہ نہیں ہوتا۔ البتہ وہ دوسرے کی غلطیوں سے خوب باخبر ہوتا ہے۔ حالاں کہ آدمی کو جو چیز سب سے زیادہ جاننا چاہئے وہ خود اپنی غلطی ہے۔ کیوں کہ اپنی غلطیوں کا جاننا ہی آخرت میں کسی کے کام آئے گا نہ کہ دوسروں کی غلطیوں کو جاننا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues

Printed page