موت کے اس پار
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۷
اور جو لوگ علم نہیں رکھتے، انھوں نے کہا: اللہ کیوں نہیں کلام کرتا ہم سے یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی۔ اسی طرح ان کے اگلے بھی انھیں کی سی بات کہہ چکے ہیں، ان سب کے دل ایک جیسے ہیں، ہم نے پیش کر دی ہیں نشانیاں ان لوگوں کے لئے جو یقین کرنے والے ہیں۔ ہم نے تم کو ٹھیک بات لے کر بھیجا ہے، خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔ اور تم سے دوزخ میں جانے والوں کی بابت کوئی پوچھ نہیں ہوگی۔ اور بےود اور نصاریٰ ہرگز تم سے راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کی ملت کے پیرو نہ بن جاؤ۔ تم کہو کہ راہِ اللہ دکھاتا ہے وہی اصل راہ ہے۔ اور اگر بعد اس علم کے جو تم کو پہنچ چکا ہے تم نے ان کی خواہشوں کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلہ میں نہ تمھارا کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو پڑھتے ہیں جیسا کہ حق ہے پڑھنے کا۔ یہی لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر۔ اور جو اس کا انکار کرے تو وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔ ۱۲۱ - ۱۱۸ اللہ کے وہ بندے جو اللہ کی طرف سے اس کے دین کا اعلان کرنے کے لئے آئے، ان کو ہر زمانہ میں ایک ہی قسم کے رد عمل سے سابقہ پیش آیا۔ "اگر تم خدا کے نمائندے ہو تو تمھارے ساتھ دنیا کے خزانے کیوں نہیں" یہ شبہ ان لوگوں کو ہوتا جو اپنے دنیا پرستانہ مزاج کی وجہ سے مادی بڑائی کو بڑائی سمجھتے تھے، اس لئے وہ خدا کی نمائندگی کرنے والے میں بھی یہی بڑائی دیکھنا چاہتے تھے۔ جب داعیٔ حق کی زندگی میں ان کو اس قسم کی بڑائی دکھائی نہ دیتی تو وہ اس کا انکار کر دیتے ۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا کہ ایک "معمولی آدمی"، کیوں کر وہ شخص ہوسکتا ہے جس کو زمین و آسمان کے مالک نے اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لئے چُنا ہو۔ اللہ کے ان بندوں کی زندگی اور ان کے کلام میں اللہ اپنی نشانیوں کی صورت میں شامل ہوتا، بالفاظِ دیگر معنوی بڑائیاں پوری طرح ان کے ساتھ ہوتیں۔ مگر اس قسم کی چیزیں لوگوں کو نظر نہ آتیں، اس لئے وہ ان کو "بڑا" ماننے کے لئے بھی تیار نہ ہوتے۔ دلیل اپنی کامل صورت میں موجود ہو کر بھی ان کے ذہن کا جزو نہ بنتی، کیوں کہ وہ ان کے مزاجی ڈھانچہ کے مطابق نہ ہوتی۔
یہود و نصاریٰ قدیم زمانہ میں آسمانی مذہب کے نمائندے تھے مگر زوال کا شکار ہونے کے بعد دین ان کے لئے ایک گروہی طریقہ ہو کر رہ گیا تھا۔ وہ اپنے گروہ سے وابستہ رہنے کو دین سمجھتے اور گروہ سے الگ ہو جانے کو بے دینی۔ ان کے گروہ میں شامل ہونا یا نہ ہونا ہی ان کے نزدیک حق اور ناحق کا معیار بن گیا تھا۔ دین جب اپنی بے آمیز صورت میں ان کے سامنے آیا تو ان کا گروہی دین داری کا مزاج اس کو قبول نہ کر سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ آمیز دین کو وہی اختیار کرے گا جس نے اپنی فطرت کو زندہ رکھاہے۔ جن کی فطرت کی روشنی بجھ چکی ہے ان سے کسی قسم کی کوئی امید نہیں۔ دین کو ایسے لوگوں کے لئے قابلِ قبول بننے کی خاطر دین کو بدلا نہیں جا سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues