Al-Risala · November 1979 · page 28

موت کے اس پار

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۸

اے بنی اسرائیل میرے اس احسان کو یاد کرو جو میں نے تمھارے اوپر کیا اور اس بات کو کہ میں نے تم کو تمام اقوام عالم پر فضیلت دی ۔ اور اس دن سے ڈرو جس میں کوئی شخص کسی شخص کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ کسی کی طرف سے کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ کسی کو کوئی سفارش فائدہ دے گی اور نہ کہیں سے ان کو کوئی مدد پہنچے گی ۔ اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو اس نے پورا کر دکھایا۔ اللہ نے کہا میں تم کو سب لوگوں کا امام بناؤں گا۔ ابراہیم نے کہا : اور میری اولاد میں سے بھی۔ اللہ نے کہا : میرا عہد ظالموں تک نہیں پہنچتا بنی اسرائیل کو اس کارِ خاص کے لئے چنا گیا تھا کہ وہ اقوام عالم کو اللہ کی طرف بلائیں اور ان کو اس حقیقت سے آگاہ کریں کہ ان کے اعمال کے بارے میں ان کا مالک ان سے سوال کرنے والا ہے۔ اس کام کی رہنمائی کے لئے ان کے درمیان مسلسل پیغمبر آتے رہے۔ حضرت ابراہیم، یعقوب، یوسف، موسیٰ، داؤد ، سلیمان، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ علیہم السلام وغیرہ۔ مگر بعد کے زمانہ میں جب بنی اسرائیل پر زوال آیا تو انھوں نے اس منصبی فضیلت کو نسلی اور گروہی فضیلت کے معنی میں لے لیا۔ اور اس طرح اس کی بابت اپنے استحقاق کو کھو دیا۔ اسماعیلی خاندان میں نبی عربی کا آنا دراصل بنی اسرائیل کی مقام فضیلت سے معزولی اور اس کی جگہ بنی اسماعیل کے تقرر کا اعلان تھا۔ بنی اسرائیل میں جو لوگ فی الواقع خدا پرست تھے ان کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ نبی عربی جو کلام پیش کر رہے ہیں وہ خدا کی طرف سے آیا ہوا کلام ہے۔ مگر جو لوگ گروہی تعصبات کو دین بنائے ہوئے تھے ان کے لئے اپنے سے باہر کسی فضیلت کا اعتراف کرنا ممکن نہ ہو سکا۔

پیغمبر عربی کے ذریعہ ان کو متنبہ کیا گیا کہ یاد رکھو آخرت میں حقیقی ایمان اور سچے عمل کے سوا کسی بھی چیز کی کوئی قیمت نہ ہوگی۔ دنیا میں ایک شخص دوسرے شخص کا بار اپنے سر لے لیتا ہے کسی معاملہ میں کسی کی سفارش کام آ جاتی ہے، کبھی معاوضہ دے کر آدمی چھوٹ جاتا ہے، کبھی کوئی مددگار مل جاتا ہے جو پشت پناہی کر کے بچا لیتا ہے۔ مگر آخرت میں اس قسم کی کوئی چیز کسی کے کام آنے والی نہیں۔ آخرت کسی گروہ کی نسلی وراثت نہیں، وہ اللہ کے بے لاگ انصاف کا دن ہے ۔ حضرت ابراہیم کو جو درجہ فضیلت ملا اس کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب وہ کڑی جانچ میں خدا کے سچے فرماں بردار ثابت ہوئے۔ اللہ کی یہی سنت ان کی نسل کے کے بارے میں بھی ہے کہ جو عمل میں پورا اترے گا وہ اس وعدہ الہی میں شریک ہوگا۔ اور جو عمل کے ترازو پر اپنے کو سچا ثابت نہ کر سکے اس کا وہی انجام ہوگا جو اس قسم کے دوسرے مجرمین کے لئے اللہ کے یہاں مقدر ہے ــــــــ حضرت ابراہیم کو نہایت کڑی آزمائشوں کے بعد پیشوائی کا مقام دیا گیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ امامت و قیادت کے منصب کا استحقاق قربانیوں کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ قربانی کی قیمت پر کسی مقصد کو اختیار کرنے والا اس مقصد کی راہ میں سب سے آگے ہوتا ہے۔ اس لئے قدرتی طور پر وہی اس کا قائد بنتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues

Printed page