یہ الفاظ ایک صدی قبل کہے گئے تھے
الرسالہ، فروری ۱۹۷۹، صفحہ ۳
یہ الفاظ ایک صدی قبل کہے گئے تھے
۱۸۵۷ء کے حالات کے ذیل میں مولا نا سید حسین احمد مدنی لکھتے ہیں : « "قصبہ تھانہ بھون میں حضرت میاں جی نور محمد جھنجھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے خلیفہ مولانا شیخ محمد صاحب رہتے تھے۔ وہ علوم غریبہ کے باقاعدہ فاضل تھے۔ علماءء دہلی سے تمام نصاب علم ظاہر پڑھ چکے تھے۔ بدقسمتی سے مولانا شیخ محمد صاحب کی رائے یہ تھی کہ انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا ہم مسلمانوں پر فرض تو در کنار موجودہ احوال میں جائز ہی نہیں۔ چنانچہ تھانہ بھون میں اکابر علما کا ایک اجتماع بلایا گیا جس میں مولانا رشید احمد گنگوہی ، مولانا محمد قاسیم نانوتوی وغیرہ شریک ہوئے اجتماع میں حضرت نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ نے نہایت ادب سے مولانا شیخ محمد صاحب سے پوچھا کہ حضرت کیا وجہ ہے کہ آپ ان دشمنان دین و وطن پر جہاد کو فرض بلکہ جائز بھی نہیں فرماتے تو انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اسلحہ اور آلات جہاد نہیں ہیں۔ ہم بالکل بے سرو سامان ہیں۔ مولانا نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ نے عرض کیا کہ کیا اتنا بھی سامان نہیں ہے جتنا کہ غزوہ بدر میں تھا۔ اس پر مولانا شیخ محمد صاحب مرحوم نے سکوت فرمایا (نقش حیات ، جلد دوم، ص ۱۹۵، ۶۱۹۵، صفحہ ۴۰ )
ڈاکٹر محمد اقبال کے پہلے مجموعہ کلام بانگ درا میں ایک نظم ”نالہ طاہر بام“ کے عنوان سے درج ہے ۔ یہ نظم اقبال نے ۱۹۰۵ء اور ۱۹۰۸ء کے درمیان کسی وقت ” طلبہ علی گڑھ کالج کے نام “ لکھی تھی ۔ اس نظم کا آخری شعر یہ تھا :
بادہ ہے نیم رس ابھی شوق ہے نارسا ابھی رہنے دو خم کے سر پہ تم خشت کلیسا ابھی مطلب یہ کہ انگریزوں سے سیاسی چھیڑ چھاڑ ابھی نہ کرو۔ کیوں کہ اس سے پہلے اور اس کے بعد جو ضروری صلاحیت درکار ہے وہ ابھی لوگوں میں پیدا نہیں ہوئی ۔
انگریزوں کے ہندوستان میں داخلہ کے بعد جب رہنماؤں کے ایک بڑے طبقہ میں ان کے خلاف سیاسی جہاد کا جذبہ ابھرا تو اس کے ساتھ اہل فکر کی ایک تعداد ایسی بھی موجود تھی جو اس کے خلاف تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ انگریزوں سے سیاسی جہاد ابھی قبل از وقت اور مضر ہے۔ ہم کو پہلے اپنے آپ کو مستحکم بنانا چاہئے کیوں کہ اپنی موجودہ حالت کے ساتھ ہم زمانہ جدید کے سیلاب کے مقابلہ میں ٹھہرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اس سلسلہ میں یہاں دور رہنماؤں کے اقتباسات نقل کئے جاتے ہیں۔ ایک اقبال کا۔ دوسرے رشید رضا کا۔
ڈاکٹر اقبال نے رسالہ مخزن اکتوبر ۱۹۰۴ء، مارچ ۱۹۰۵ء میں دو قسطوں میں ایک مضمون شائع کرایا تھا۔ اس مضمون کا خلاصہ خود اقبال کے الفاظ میں حسب ذیل ہے :
” اگر ہمیں اقوام عالم کے دفتر میں اپنا نام قائم رکھنا ضروری ہے تو اپنی نسلوں کی بہبودی کو بھی ایک موجود واقعہ تصور کرنا ہوگا۔ ایک زمانہ تھا جب کہ اقوام دنیا کی باہمی معرکہ آرائیوں کا فیصلہ تلوار سے ہوا کرتا تھا۔ مگر آج زندگی کا دارو مدار اس کاٹھ کی تلوار پر ہے جو قلم کے نام سے موسوم کی جاتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1979 All issues