Al-Risala · February 1979 · page 4

یہ الفاظ ایک صدی قبل کہے گئے تھے

الرسالہ، فروری ۱۹۷۹، صفحہ ۴

مسلمانوں نے بالعموم یہ سمجھا ہے کہ تعلیم کا مقصد زیاوہ تر دماغی تربیت ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد نو جوانوں میں ایسی قابلیت پیدا کرنا ہے جس سے ان میں باحسن وجوہ اپنے تمدنی فرائض ادا کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے۔ جن قوموں نے تعلیم کے اس راز کو سمجھا وہ آج ترقی کے آسمان پر ہیں۔

پارسیوں کی تاریخ پر نظر ڈالو۔ ایک زمانہ میں وہ عظیم الشان قوم تھی۔ کیانی تہذیب و تمدن، شہنشاہ یزدجرد کے عہد میں عربی سواروں نے ختم کر دیا۔ مگر کیا یہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قوم نے انقلاب کے اس مفہوم کو سمجھ لیا ہے جس کی سب سے بڑی خصوصیت صنعت و تجارت ہے۔ تجارت کا ایک کثیر حصہ ان کے ہاتھوں میں ہے اور یہی وجہ ان کے سنبھل جانے کی ہے۔

ان اعتبارات سے مسلمانوں کی حالت نہایت مخدوش نظر آتی ہے۔ یہ بدقسمت قوم حکومت کھو بیٹھی، صنعت کھو بیٹھی، تجارت کھو بیٹھی۔ اب وقت کے تقاضوں سے غافل اور افلاس کی تلوار سے مجروح ہو کر ایک بے معنی توکل کا عصا ٹیکے کھڑی ہے۔ حتیٰ کہ ابھی تک ان کے مذہبی نزاعوں کا ہی فیصلہ نہیں ہوا۔ آئے دن ایک نیا فرقہ پیدا ہوتا ہے جو اپنے آپ کو جنت کا وارث سمجھ کر باقی تمام لوگوں کو جہنم کا ایندھن قرار دے دیتا ہے ۔

علامہ رشید رضا مصری ۱۳۳۰ھ (۱۹۱۲ء) میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کی دعوت پر ہندوستان آئے تھے اس کے سالانہ اجلاس سے فارغ ہو کر وہ دار العلوم دیو بند گئے۔ وہاں انھوں نے ایک تقریر کی جس کے ایک حصہ کا ترجمہ یہ ہے :

اشاعت اسلام کے دو طریقے ہیں۔ ایک، اسلام کے احکام و ہدایات کا عام مسلمانوں تک پہنچانا، اسلام کی اشاعت کا دوسرا حصہ کافروں اور بت پرستوں سے متعلق ہونا چاہئے۔ ہندوستان میں صد ہا قسم کے بت پرست ہیں۔ یہاں بتوں کو پوجنے والے، درختوں اور پتھروں کو پوجنے والے، چاند ، سورج، ستاروں اور نہایت لغویات اور خرافات کو پوجنے والے بھی موجود ہیں۔ پس اگر دعاة اور مبلغین کی ایک مضبوط جماعت موجود ہو تو ان لوگوں میں اسلام کی اشاعت اس قدر سرعت کے ساتھ ہو سکتی ہے جو اس وقت ہمارے خیال میں بھی نہیں آسکتی ۔ ہمیں عیسائیوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ کامیابی ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ایک خاص بات اور ہے جو ہر ایک دور اندیش مسلمان کی توجہ کے لائق ہے اور دہ یہ کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد غیر مسلموں کے مقابلہ میں اس قدر کم ہے کہ ان کی ہستی کو اس ملک میں ہمیشہ معرض خطر میں سمجھنا چاہئے۔ انگریزی حکومت نے جو کہ عقل اور عدل کی حکومت ہے، غیر مسلموں اور مسلمانوں کے درمیان موازنہ قائم کر رکھا ہے۔ اگر خدا نخواستہ یہ موازنہ کسی وقت ٹوٹ جائے تو آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ کیا نتیجہ ہوگا۔ غالباً مسلمانوں کا وہی حشر ہوگا جو اندلس میں ہوا تھا۔ اس لئے ایک جماعت ہم میں ایسی ہونی چاہئے جو ان شبہات کو رفع کرے جو اسلام پر عائد کئے جاتے ہیں۔ یہ شبہات جو موجودہ زمانہ کے علوم وفنون کی بنا پر پیدا ہو گئے ہیں، ان کا زور کرتا بہت ضروری ہے، مگر ان شبہات کو رفع کرنا بغیر فلسفہ جدید کی واقفیت کے ناممکن ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ اس جماعت کے اشخاص فلسفہ جدید

‹ Previous page Next page › Contents of February 1979 All issues

Printed page