Al-Risala · November 1979 · page 44

بدگمانی سے بچئے

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴۴

بدگمانی سے بچئے

باہمی تعلقات کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ لوگوں کے درمیان بدگمانیاں پھیلی ہوئی ہوں (حجرات ۱۲) دوسرے یہ کہ ان کے تعلقات حسن ظن پر قائم ہوں (نور ۱۲) دو آدمی کا معاملہ ہو یا ایک خاندان کا یا پورے سماج کا، ہر جگہ تعلقات کی یہی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ شکایتی مواقع پر اپنے بھائی کے خلاف بری رائے قائم کر لینا اور اس کے خلاف کدورت لے کر بیٹھ جانا سوء ظن ہے اور اس کو منافقانہ تعلقات کہا گیا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب شکایت کی کوئی بات سامنے آئے یا کسی کی کوئی بات بری معلوم ہو تو اس کی اچھی تاویل کی جائے اور اس کو دل میں رکھنے کے بجائے اس کو بھلا دیا جائے۔ یہ حسن ظن ہے اور اس بنیاد پر جو تعلقات قائم ہوتے ہیں انھیں کا نام مومنانہ تعلقات ہے۔

سوء ظن کی فضا عام طور پر ایسے معاشرہ میں پیدا ہوتی ہے جہاں مزاج یہ بن جائے کہ جو سنو اس کو مان لو۔ ایسے موقع پر بہترین طریقہ یہ ہے کہ دوسرے کی آبرو کو آدمی اپنی آبرو پر قیاس کرے " افک " کے قصہ میں آتا ہے کہ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے ان کی بیوی نے کہا کہ لوگ عائشہ کی نسبت ایسا کہتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ کہنے والے جھوٹے ہیں۔ تم بتاؤ کیا تم ایسا کام کر سکتی ہو۔ خاتون نے کہا ہرگز نہیں۔ فرمایا: پھر عائشہ رض تجھ سے بڑھ کر پاک وصاف اور طاہر ومطہر ہیں، ان کی نسبت بلا وجہ ایسا گمان کیوں کیا جائے۔

اسلامی زندگی

ایک اسلامی زندگی کا وجود میں آنا ایسا ہی ہے جیسے ایک درخت کا وجود میں آنا۔ ایک ہرا بھرا درخت زمین پر اس وقت کھڑا ہوتا ہے جب کہ اس نے اپنے آپ کو پوری طرح کائنات کے ہم آہنگ کر لیا ہو، جب وہ پوری کائنات کو اپنی غذا بنا چکا ہو۔

اسلامی زندگی نہ عملیاتی ورزشوں سے وجود میں آتی ہے اور نہ انقلابی نعروں سے۔ ایک بندہ اس وقت مومن بنتا ہے جب کہ وہ تجلیات الہی کا مہبط بن جائے۔ خدا نے جس طرح مادی سطح پر درختوں کے لئے ایک عالمی دسترخوان پھیلا رکھا ہے۔ اسی طرح روحانی سطح پر انسان کے لئے ہر وقت اس کے فیضان کی بارش ہو رہی ہے۔ مادی کائنات سے اپنے آپ کو جوڑنے کے نتیجہ میں درخت وجود میں آتا ہے ۔ اسی طرح الہی تجلیات کے سمندر میں نہانے سے وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کو اسلامی زندگی کہتے ہیں۔ ایک درخت ہو یا ایک انسان، دونوں ہی ایک وسیع تر نظام غذا سے اپنے کو جوڑ کر اپنی ہستی کو کمال کے مقام پر پہنچاتے ہیں۔ جو شخص آج اللہ کے رزق پر جی رہا ہے وہ آخرت میں نہایت شاداب اور تندرست حالت میں اٹھے گا، اور جو لوگ اللہ کے رزق سے محروم ہیں ان کا حال وہی ہوگا جو آج خراب غذاؤں پر پلنے والوں کا نظر آتا ہے، وہ مدقوق صورتوں کے ساتھ اٹھیں گے خواہ آج وہ کتنے ہی پر رونق نظر آتے ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues

Printed page