Al-Risala · November 1979 · page 43

اسٹیٹ کا مذہب، سیاست

الرسالہ، نومبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴۳

اسٹیٹ کا مذہب، سیاست

سیاسی اختلاف ہمیشہ شدت پیدا کرتا ہے۔ قدریہ اور جبریہ فرقوں میں جو شدت نظر آتی ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ یہ دونوں فرقے سیاسی اسباب کے تحت پیدا ہوئے۔ خلافت راشدہ کے آخری دور میں سیاسی اقتدار بنو ہاشم کے ہاتھ میں تھا۔ بنو امیہ نے ان سے اقتدار چھین لیا۔ بنو ہاشم کی طرف سے کسی متوقع بغاوت کو کچلنے کے لئے انھوں نے ان کے اوپر سخت مظالم کئے۔ یہی وقت ہے جب کہ جبر و اختیار کے نظریات مسلمانوں میں پیدا ہوئے۔ بنو امیہ نے اپنی سیاست کی نظریاتی توجیہہ کے لئے جبر کا سہارا لیا۔ انھوں نے کہا کہ اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے خدا کے حکم کے تحت ہوتا ہے۔ اس لئے بنو امیہ کا بنو ہاشم سے خلافت چھیننا اور ان کے افراد پر سختیاں کرنا سب خدا کی مرضی کے مطابق ہے۔ جو ہونا تھا وہی ہو رہا ہے، اس میں کسی انسان کی مرضی کا کوئی دخل نہیں۔ اس کے جواب میں ان کو غلط ثابت کرنے کے لئے دوسرے گروہ نے کہا کہ انسان آزاد ہے اور خود اپنی مرضی سے اپنے لئے کوئی راہ منتخب کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس طرح نظریہ اختیار کا مطلب، اس وقت کی فضا میں یہ ہو گیا کہ بنو امیہ ظالم ہیں۔ کیوں کہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے اپنے ارادہ سے کیا ہے خدا کے حکم کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ کوئی بحث اگر خالص علمی مقصد کے تحت نہ ہو بلکہ اس کے پیچھے دوسرے مفادات و محرکات کام کر رہے ہوں تو دونوں فریقوں کی طرف سے شدت اور مبالغہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہی قدریہ اور جبریہ کے ساتھ ہوا۔ قدیم کتابوں میں ان مباحث پر جو شدت پائی جاتی ہے وہ اسی سیاسی پس منظر کا نتیجہ ہے۔

یہی معاملہ دوسرے عنوان کے ساتھ خوارج کا تھا جنھوں نے ایمان و عمل کے بارے میں انتہا پسندانہ اعتقادی مباحث پیدا کئے۔ خوارج نے بنو امیہ کے خلاف بغاوت کا فتویٰ دیا۔ چوں کہ اسلام میں مسلمانوں کی قائم شدہ حکومت کے خلاف جنگ کو ناجائز قرار دیا گیا ہے، انھیں اپنے اقدام کے لئے ایک نظریاتی جواز درکار تھا۔ اس مقصد کے لئے انھوں نے ایمان و عمل کے مسئلہ کا سہارا لیا۔ انھوں نے ایمان کی ایسی تعریف پر اصرار کیا جس میں عمل بھی لازمی طور پر داخل ہو، صرف ایمان کسی کو مسلمان قرار دینے کے لئے کافی نہ ہو۔ تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ وقت کے حکمران مسلمان نہیں ہیں اور ان کے خلاف خروج کرنا جائز ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسری جانب کے لوگوں نے جوابی شدت اختیار کی انھوں نے اس پر زور دیا کہ صرف ایمان کسی کے مسلمان ہونے کے لئے کافی ہے، اس کے لئے عمل لازمی شرط نہیں ہے۔ پہلے نظریہ کی صورت میں وقت کے حکمرانوں کے خلاف بغاوت جائز قرار پائی تھی، دوسرے نظریہ کی صورت میں ان کے خلاف بغاوت کرنا حرام تھا۔ یہی سیاسی پس منظر تھا جس کی وجہ سے ایمان و عمل کی بحث نے وہ شدت اختیار کی جو ہم کو قدیم کتابوں میں دکھائی دیتی ہے۔

سیاسی اسباب کے تحت جو نظریہ پیدا ہو اس میں شدت کا پیدا ہونا یقینی ہے۔ طلاق المکرہ لیس بشئی کا فتویٰ اور قرآن کو غیر مخلوق کہنا حکومت کی نظر میں اس لئے سنگین بن گئے کہ وقت کے حالات نے ان میں سیاسی پہلو پیدا کر دیا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1979 All issues

Printed page