Al-Risala · December 1979 · page 3

قربانی اسلام میں

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳

میں اپنے عزیز بیٹے کی گردن پر چھری رکھ دی ۔ عین اس وقت خدا کی طرف سے آواز آئی کہ بس تم نے اپنا خواب پورا کر دیا۔ اس کے بعد فرشتہ نے آپ کو ایک مینڈھا پیش کیا اور آپ نے اپنے بیٹے کے فدیہ میں مینڈھے کو خدا کی راہ میں ذبح کیا۔ یہ واقعہ ہجری ماہ ذی الحجہ کی دس تاریخ کو پیش آیا۔ اس لیے دنیا بھر کے مسلمان اس تاریخ کو جانور کی قربانی کرتے ہیں۔ یہ قربانی گویا خود اپنی جان کا فدیہ ہے۔ اس طرح قربانی کرنے والا گویا عمل کی زبان میں کہتا ہے کہ خدایا ہماری جانیں تیرے لئے حاضر ہیں آج ہم اپنی جانگی کی علامت کے طور پر جانور کو پیش کر رہے ہیں اور ہر وقت اس کے لئے تیار ہیں کہ جب بھی تیرا حکم ہو اپنے آپ کو اور اپنے اثاثہ کو تیری خدمت میں پیش کردیں۔ ہر بالغ مسلمان جو صاحب نصاب ہو اس کے اوپر قربانی واجب ہے۔ قربانی کے لئے تندرست اور فربہ جانور منتخب کرنا چاہئے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سمنوا ضحایا کم فانھا على الصراط مطاياكم اپنی قربانی کے جانوروں کو فربہ کرو ۔ کیوں کہ وہ پل صراط پر تمھاری سواری ہوں گے۔ یہ تمثیل کی زبان میں اس بات کی تلقین ہے کہ قربانی کے لئے آدمی کو پورا اہتمام کرنا چاہئے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے دنیا کے سفر میں آدمی یہ کوشش کرتا ہے کہ اچھی سے اچھی سواری کو اپنے لئے منتخب کرے ۔ دنیا کی چیزوں میں آدمی جس طرح اہتمام کرتا ہے اسی طرح اس کو ان چیزوں میں بھی اہتمام کرنا چاہئے جو آخرت میں کام آنے والی ہیں۔ جس طرح دنیا کے سفر میں اچھی سواری بخیر و خوبی منزل تک پہنچنے کی ضمانت ہوتی ہے اسی طرح آخرت کے سفر میں بھی وہی شخص سلامتی کے ساتھ منزل تک پہنچے گا جس نے اس کے لئے اپنے امکان کے مطابق " اچھی سواری" کا انتظام کیا ہو ۔ ناقص سواری کے ساتھ نہ دنیا کا سفر کامیابی کے ساتھ طے ہوسکتا ہے اور نہ آخرت کا۔

مستحب یہ ہے کہ جانور کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرے ۔ نہ دریا تحفہ آپ کسی ہرکارہ کے ذریعہ بھی بھیج سکتے ہیں۔ مگر وہ نذر جو کسی بڑی ہستی کے پاس بھیجی جارہی ہو اس کو آدمی خود لے کر حاضر ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کرتا کہ کسی کو چند روپے دے اور کہے کہ بازار سے خرید کر اس کو فلاں صاحب تک پہنچا دینا۔ قربانی محض جانور کا ہدیہ نہیں بلکہ جذبات کا ہدیہ ہے اور اپنے جذبات کا ہدیہ آدمی اپنی ذات ہی کے ذریعہ پیش کر سکتا ہے۔ قربانی کرتے وقت جو دعا پڑھی جاتی ہے وہ یہ ہے: اِنّی وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿ ان صلوتی وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اَللّٰھُمَّ مِنْكَ وَلَكَ میں نے اپنا رخ کر لیا اس ذات کی طرف جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے، بالکل یکسو ہو کر ۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز اور میری قربانی، میری زندگی اور میری موت خدا ہی کے لئے ہے ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ مجھے ایسا ہی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور میں اپنے آپ کو اس کے حوالے کرتا ہوں۔ خدایا تجھ ہی نے دیا ہے اور تیرے ہی لئے قربانی کر رہا ہوں) اس دعا کے الفاظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ قربانی کے وقت قربانی کرنے والے کی کیفیات کیا ہونی چاہئیں۔ یہ دعا دراصل مومن کی نفسیاتی حالت کی تصویر ہے ۔ قربانی کرنے والا حقیقت میں وہ ہے جو خود اپنی جان کو لے کر مذبح میں پہنچ گیا ہو ، جیسے حضرت ابراہیم نے اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues

Printed page