Al-Risala · December 1979 · page 4

قربانی اسلام میں

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴

عزیز بیٹے کو ذبح کے لئے لٹا دیا تھا۔ اور جانور کو ذبح کرنا گویا یہ معنی رکھتا ہے کہ خدا نے ازراہ کرم ایک جانور بھیج دیا ہے کہ اس وقت تم اپنی جان کے بدلے اس کو ذبح کر دو۔ قربانی حضرت ابراہیم کے واقعہ کی تمثیل ہے کسی کی قربانی اللہ کی نظر میں اسی وقت قربانی ہے جب کہ وہ ابراہیمی روح کے ساتھ ادا کی گئی ہو۔ «میری نماز اور میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لئے ہے»۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز آدمی کی زندگی کی علامت ہے اور قربانی آدمی کی موت کی علامت۔ نماز میں آدمی اللہ کی طرف رخ کرتا ہے۔ وہ اپنے جسم کی خیال کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ یہی روح اس کی تمام سرگرمیوں میں مطلوب ہے۔ اس کو دنیا میں اس طرح رہنا ہے کہ اس کی زندگی خدا رخی زندگی بن گئی ہو، جس طرح اس کی نماز خدا رخی نماز ہوتی ہے۔ یہی معاملہ قربانی کا ہے آدمی پر موت اس طرح آنی ہے کہ اس کی موت قربانی کی موت بن گئی ہو۔ اس کا مرنا عام معنوں میں طبعی عمر پوری کر کے مرجانا نہ ہو بلکہ قربانیوں کی ایک مسلسل زندگی کی تکمیل ہو۔ جانور کی قربانی اس بات کا ایک علامتی عزم ہے کہ آدمی اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ کھپاتا رہے گا، یہاں تک کہ اسی حالت میں اس کا خاتمہ ہو جائے ۔

جانور کے ذبح کے فوراً بعد یہ دعا پڑھی جاتی ہے : اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِيلِكَ إِبْرَاهِيمَ د حبیبكَ محمد عَلَیْھِمَا الصَّلٰوۃُ والسلام خدا یا میری طرف سے اس قربانی کو قبول فرما جس طرح تو نے اپنے خلیل ابراہیم اور اپنے حبیب سے قبول فرمایا تھا) اس طرح ہم کو شکل دعا یہ بتایا گیا کہ قربانی کی قبولیت کے لئے اسی جذبہ فدائیت کی ضرورت ہے جو سیدنا ابراہیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر پیدا ہوئی ۔ قربانی کی قبولیت کا راز یہ ہے کہ اس کے پیچھے حقیقی فدا کاری کی روح پائی جاتی ہو، وہ فدا کاری جو اپنی کامل صورت میں خدا کے نبیوں نے پیش کی۔ قربانی اسی کی قربانی ہے جس نے روزانہ کی زندگی میں اپنے کو قربان کر رکھا ہو نہ کہ سال میں ایک دن جانور کو ذبح کر دینا ۔ ابراہیمی قربانی یہ ہے کہ خدا کی راہ میں سب کچھ دے دینے کے بعد آدمی کے پاس صرف اس کی جان رہ گئی تھی جس کو لے کر وہ خدا کے یہاں حاضر ہو گیا۔ مگر خدا نے اپنی رحمت و شفقت کی بنا پر اس کی جان کے بدلے جانور کی قربانی قبول کر لی۔ قربانی کی حقیقت آخری متاع کو بھی اللہ کی راہ میں دے دینا ہے نہ یہ کہ آدمی آخری متاع تک ہر چیز اپنے پاس بچائے رکھے اور سال میں صرف ایک جانور خدا کے نام پر ذبح کر دیا کرے ۔ قربانی کی حقیقت کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے : لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (خدا کو قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا۔ خدا کو تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے) گویا خدا کے یہاں جس چیز کی قدر ہے وہ خدا سے ڈرنے والا دل ہے نہ کہ کوئی چوپایہ ۔ چوپایہ کی قربانی تو محض دل کی اندرونی حالت کی ایک ظاہری علامت ہے۔ اگر دل کے اندر مطلوب حالت موجود نہ ہو تو اوپر اوپر جانور کو ذبح کر دینا ایسا ہی ہے جیسے دکان کے اندر سامان موجود نہ ہو اور اس کے باہر فرضی طور پر ایک سائن بورڈ ٹکا دیا جائے ۔ نوٹ: یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۲۸ اکتوبر ۱۹۷۹ء کو نشر کی گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues

Printed page