Al-Risala · December 1979 · page 7

دو قسم کی غذائیں

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۷

دو قسم کی غذائیں

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کا رسول اس لئے آیا ہے کہ وہ پاک چیزوں کو جائز بتائے اور گندی چیزوں کو حرام قرار دے (ویحل لھم الطیبت ويحرم علیھم الخبيث، اعراف ۱۵۷) گویا ایمان سے آدمی کے اندر ایسی روح پیدا ہوتی ہے جو خبیث چیزوں کو قبول نہ کرے، وہ صرف طیب چیزوں کو اپنی غذا بنائے۔ اس کے برعکس غیر مومن وہ ہے جو خبیث چیزوں پر جی رہا ہو اور طیب چیزیں اس کی روح کی غذا نہ بنتی ہوں۔ جانوروں میں دو قسم کے جانور ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو مردار اور غلیظ چیزیں تلاش کر کے کھاتے ہیں دوسرے وہ جو ستھری غذاؤں سے اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح انسانوں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو خبیث جذبات پر جیتے ہیں۔ دوسرے وہ جو طیب جذبات پر پرورش پاتے ہیں۔ ایک انسان وہ ہے جو نفرت اور عداوت میں جی رہا ہے۔ جو ذاتی نمائش اور شخصی مصالح کی ہواؤں میں سانس لیتا ہے۔ جس کی روح کو اس سے غذا ملتی ہے کہ وہ حق کا اعتراف نہ کرے۔ جس کے قلب و دماغ کو انانیت، خود پرستی، اظہار برتری سے خوراک ملتی ہے۔ وہ کسی کو تکلیف پہنچا کر خوش ہوتا ہے۔ کسی کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اس پر وار کرتا ہے اور پھر کامیابی کے قہقہے لگاتا ہے۔ ایسے لوگ خدا کی دنیا میں طیب خوراک کو چھوڑ کر خبیث خوراک پر جی رہے ہیں۔ دوسرا انسان وہ ہے جو قلب سلیم کے ساتھ جی رہا ہے۔ اس کی روح دوسروں کی کامیابی سے خوش ہوتی ہے۔ وہ دوسرے پر قابو یافتہ ہو کر بھی اس کو چھوڑ دینے میں راحت محسوس کرتا ہے۔ اس کا دل دوسروں کے لئے خیر خواہی اور محبت کے جذبات سے بھرا ہوتا ہے۔ اس کی ہستی کو عجز اور تواضع میں لذت ملتی ہے۔ وہ خدا اور آخرت کی فضا میں سانس لیتا ہے۔ اختلاف کے وقت اپنے کو جھکا لینے میں اس کو سکون ملتا ہے۔ جب کوئی اس پر تنقید کرتا ہے تو تنقید کو قبول کر لینے میں اس کا دل ٹھہرائو پاتا ہے۔ کسی کا حق اس کے ذمہ ہو تو جب تک وہ اس کا حق ادا نہ کر لے اس کو راتوں کو نیند نہیں آتی ۔ ایسے لوگ خدا کی دنیا سے اس کی طیب خوراک لے رہے ہیں اور اس کی خبیث خوراک سے اپنے کو بچائے ہوئے ہیں۔

دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ ہر شخص کی زندگی میں بار بار غیر معمولی حالات آتے ہیں، کبھی کسی سے معاملہ پڑنے کی صورت میں، کبھی کسی سے شکایت پیدا ہو جانے کی صورت میں۔ یہ غیر معمولی مواقع وہ غیر معمولی لمحات ہیں جب کہ خدا دونوں قسم کی روحوں کو چھانٹتا ہے تاکہ ایک کے لئے جنت کا اور دوسرے کے لئے جہنم کا فیصلہ کرے۔ جنت پاک روحوں کی آبادی ہے جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنہوں نے دنیا کی جانچ میں تواضع اور انصاف کا ثبوت دیا اور جہنم ناپاک روحوں کا جیل خانہ ہے جہاں وہ لوگ داخل کئے جائیں گے جو معاملے کے وقت بے انصاف ہو گئے اور خدا کے دئے ہوئے وسائل کو اس لئے خرچ کیا تا کہ اس کے ذریعہ سے اپنی متکبرانہ نفسیات کی تسکین حاصل کریں۔ جنتی اخلاقیات کے لوگ جنت میں ہوں گے اور جہنمی اخلاقیات کے لوگ جہنم میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues

Printed page