جب ذہن کے پردے ہٹ جائیں
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۸
جب ذہن کے پردے ہٹ جائیں
ملک عبد الشکور بی اے (پیدائش ۱۹۳۶ء) بدھل (راجوری) کے رہنے والے ہیں۔ وہ سگریٹ کے عادی تھے اور روزانہ تین پیکٹ پی جاتے تھے۔ ”سگریٹ پینا صحت کے لئے مضر ہے“، ”سگریٹ پینا اپنے کمائے ہوئے پیسہ کو آگ لگانا ہے“؛ اسی قسم کی کوئی بھی دلیل ان کو سگریٹ چھوڑنے پر آمادہ نہیں کر سکتی تھی۔ حتیٰ کہ وہ اپنے دوستوں کو بھی اصرار کر کے پلاتے ۔ چار پینے کے بعد وہ سگریٹ کا نشہ لینے کو اتنا ضروری سمجھتے تھے کہ وہ اپنے دوستوں سے کہتے ”جو آدمی چائے پی کر سگریٹ نہ پئے اس کو چائے پینے کا حق نہیں“۔
مگر ایک چھوٹے سے واقعہ نے ان کی محبوب سگریٹ ان سے چھڑا دی۔ سگریٹ کے ٹکڑے جو دھوپینے کے بعد پھینکتے ان کو ان کا تین سالہ بچہ فاروق قیصر اٹھا لیتا اور منھ میں لگا کر پیتا۔ ملک عبد الشکور صاحب اس کو منع کرتے مگر وہ نہ مانتا۔ ایک روز ایسا ہوا کہ بچہ کی ماں نے سختی سے بچہ کو منع کیا تو بچے نے کہا: "ابا بھی تو پیتے ہیں“، ملک عبد الشکور صاحب نے بچہ کی زبان سے یہ سنا تو ان کو سخت جھٹکا لگا۔ اگر چہ وہ دوستوں کے سامنے اپنی سگریٹ نوشی پر قصیدہ پڑھتے تھے مگر ان کا دل خوب جانتا تھا کہ سگریٹ پینا ایک بری عادت ہے جس کا انجام نہ صرف صحت اور پیسہ کی بربادی ہے بلکہ وہ اخلاق کو بھی بگاڑنے والا ہے۔ جب کوئی شخص ان سے سگریٹ چھوڑنے کو کہتا تو وہ اس کے خلاف لفظی دلائل کا انبار لگا دیتے۔ مگر ان دلائل کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہ تھی کہ وہ اپنے ایک ”نشہ“ کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے اور اس کے لئے بھی تیار نہ تھے کہ اپنی غلطی کو مان لیں۔ اس لئے وہ لفظی تاویلات کے سہارے اپنے کو حق بجانب ثابت کرتے تھے۔ وہ اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے تھے کہ سگریٹ کے خلاف کسی دلیل پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں۔ مگر جب سگریٹ کا سوال بچہ کی زندگی کا سوال بن گیا تو اچانک وہ سنجیدہ ہو گئے۔ ان کے ذہن سے وہ تمام پردے ہٹ گئے جنہوں نے ایک سادہ سی حقیقت کو سمجھنا ان کے لئے نا ممکن بنا دیا تھا۔ جو شخص مضبوط دلائل کے آگے ہتھیار ڈالنے پر تیار نہ ہوتا تھا وہ ایک بچہ کے کمزور الفاظ کے آگے بالکل ڈھ گیا۔ ”اگر میں خود سگریٹ پیتا رہوں تو میں اپنے بچہ کو سگریٹ پینے سے باز نہیں رکھ سکتا“، انھوں نے سوچا۔ بچہ کا یہ کہنا کہ "ابا بھی تو پیتے ہیں“ ان کے لئے ایک ایسا ہتھوڑ ابن گیا جس کی ضرب کو برداشت کرنے کی طاقت ان کے اندر نہ تھی۔ بچہ کی زبان سے یہ الفاظ سن کر ان کو سخت جھٹکا لگا۔ انھوں نے ایک لمحہ کے اندر وہ فیصلہ کر لیا جس کے لئے ان کے دوستوں کی مہینوں اور سالوں کی کوشش بھی ناکافی ثابت ہوئی تھی۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ انھوں نے طے کر لیا کہ وہ سگریٹ پینا بالکل چھوڑ دیں گے۔ انھوں نے نہ صرف اگلے دن سگریٹ نہیں پی بلکہ مستقل طور پر سگریٹ نوشی ترک کر دی۔ باپ کو سگریٹ سے محبت تھی، مگر بیٹے سے اس سے زیادہ محبت تھی۔ اس نے بیٹے کی خاطر سگریٹ کو چھوڑ دیا۔ اس طرح ہر آدمی کو اپنے مفادات اور مصلح سے محبت ہوتی ہے۔ اسلام یہ ہے کہ خدا کی محبت اتنی بڑھ جائے کہ اس کی خاطر آدمی دنیا کے مفادات اور مصالح کو قربان کر دے۔ (۲۰ ستمبر ۱۹۷۹ء)
‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues