ان کا مکمل انقلاب جزئی انقلاب بھی نہ بن سکا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۶
ان کا مکمل انقلاب جزئی انقلاب بھی نہ بن سکا
جے پرکاش نارائن (۱۹۰۲-۱۹۷۹) اپنے علم اور صلاحیت کے اعتبار سے ہندوستان کے چوٹی کے لیڈروں میں سے تھے۔ ان کو عام طور پر مخلص اور سنجیدہ انسان سمجھا جاتا تھا اور ہر طبقہ کے لوگ ان کا احترام کرتے تھے۔ پٹنہ میں ان کے مکان کے سونے کے کمرہ میں دیوار پر یہ شعر لگا ہوا تھا:
مالک تری رضا رہے اور تو ہی تو رہے باقی نہ میں رہوں نہ مری آرزو رہے وہ اپنے دل میں سماجی اصلاح کا بے پناہ جذبہ رکھتے تھے اور اپنے الفاظ میں سمپورن کرانتی Total Revolution کے علم بردار تھے۔ انھوں نے سمجھا کہ ہندوستان کے لوگ ان کا مطلوبہ مکمل انقلاب لانے کے لیے بے قرار ہیں۔ صرف اندراا حکومت راستہ کی رکاوٹ ہے۔ اندر حکومت ختم ہو جائے تو اس کے بعد مطلوبہ سماجی نظام نہایت آسانی سے قائم ہو جائے گا۔ ان کو اپنے اس اندازہ پر اتنا یقین تھا کہ وہ اس اعلیٰ مقصد کے حصول کی خاطر فوج اور پولیس کو بغاوت پر ابھارنے کو بھی جائز سمجھنے لگے۔ اندرا گاندھی کی بعض غلطیوں نے ان کو موقع دیا اور دہ ۷۷ء میں اس حکومت کو ختم کرنے میں شان دار طور پر کامیاب ہو گئے۔ تاہم اس کامیابی کے معنی صرف یہ تھے کہ اقتدار اندرا اور بختے کے ہاتھ سے نکل کر مرار جی ڈیسائی اور کانتی ڈیسائی کے ہاتھ میں چلا گیا۔ مطلوبہ سماجی نظام کا قیام پھر بھی خیالی امید ہی بنا رہا۔ اقتدار کی تبدیلی کے بعد اگر چہ ذاتی طور پر پرکاش کا مقام اتنا بلند ہوا کہ ان کو لوک نائک کا پر فخر خطاب دیا گیا۔ تاہم اپنی تمام ظاہری کامیابیوں کے باوجود ۹ اکتوبر ۱۹۷۹ء کو وہ دنیا سے اس احساس کے ساتھ چلے گئے کہ ان کا مکمل انقلاب اپنی تمام تر دھوم کے باوجود جزئی انقلاب بھی نہ بن سکا مزید یہ کہ جنتا پارٹی میں بہت جلد پھوٹ پڑگئی اور صرف ۲۸ ماہ بعد جنتا حکومت ٹوٹ گئی ۔ اپنی محبوب جنتا پارٹی کا یہ انجام جب ان کے علم میں آیا تو ان کی زبان سے نکلا: "باغ اجڑ گیا" (ہندوستان ٹائمس ۲۰ جولائی ۱۹۷۹ء) آخر میں وہ اتنے دل شکستہ ہو گئے کہ موت سے ایک دن پہلے اچوت پٹور دھن ان سے پٹنہ میں ملے اور ان کی خیریت پوچھی تو انھوں نے کہا: "میں کس طرح جی رہا ہوں، بس موت کا انتظار کر رہا ہوں" (ٹائمس آف انڈیا ۹ اکتوبر ۱۹۷۹ء)
جے پرکاش نارائن کا یہ واقعہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ وہ ایک عبرت کا آئینہ ہے جس میں آپ اسی قسم کی بہت سی دوسری تصویریں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ایک مصلح جب "ظالم حکومت" کو ہٹانے کا نعرہ لگاتا ہے تو مشترک دشمنی کا جذبہ بہت سے مختلف الخیال عناصر کو اکٹھا کر دیتا ہے۔ اس طرح مصلح کی جماعت اقلیت میں ہونے کے باوجود متحدہ محاذ میں شامل ہو کر اکثریت حاصل کر لیتی ہے۔ مگر جب ظالم حکومت ہٹ جاتی ہے تو سب کا مفاد الگ ہو جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں۔ اب مصلح کی جماعت اکیلی ہو کر دوبارہ اسی اقلیت کے مقام پر چلی جاتی ہے جہاں وہ متحدہ محاذ بننے سے پہلے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ "ظالم" کو ہٹا کر بھی عادل کو اقتدار کی گدی پر بیٹھا نہیں پاتی۔ جے پرکاش نارائن اور ان کی قسم کے دوسرے مصلحین کی شاندار کامیابی کے معاہد عبرتناک ناکامی کا سبب بنی ہے۔ حال دسمبر ۱۹۷۹
‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues