سنانے والے بہت، سننے والا کوئی نہیں
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۱۵
سنانے والے بہت، سننے والا کوئی نہیں
آدمی اپنے کو نمایاں کرنا چاہتا ہے۔ یہی ہر دور میں آدمی کی سب سے بڑی خواہش رہی ہے۔ قدیم زمانہ میں اپنے کو نمایاں کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ تلوار تھا ۔ اس لئے آدمی تلوار کے کارنامے دکھا کر اپنی جاہ پسندی کے جذبہ کی تسکین حاصل کرتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں پریس اور پلیٹ فارم اس کے ذریعے بن گئے ہیں، اس لئے آج لوگ لکھنے اور بولنے کے کمالات دکھارہے ہیں۔ جس کو بھی کچھ موقع مل گیا ہے وہ چاہتا ہے کہ تحریر وتقریر کے میدان میں ظاہر ہو کر اپنے آپ کو نمایاں کرے۔ مزید یہ کہ تلوار کا کھیل بڑا جان جوکھم کا کھیل تھا۔ اس لئے نسبتا کم لوگ اس میدان میں اترنے کا حوصلہ کرتے تھے۔ اس کے برعکس قلم کو حرکت میں لانا یا لاؤڈ اسپیکر پر الفاظ کے دریا بہانا بہت آسان کام ہے۔ اس لئے آج ہر آدمی جاہ اور شہرت کے میدان میں دوڑ لگانے کے لئے بے قرار ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساری انسانی آبادی ’’سنانے والوں‘‘ میں تبدیل ہوگئی ہے۔ زمین کی پشت پر ’’سننے والا‘‘ کوئی نہیں۔
جوہاں بھی دیکھیے، ہر آدمی دوسرے کو درس دیتا ہوا نظر آئے گا۔ کوئی اپنے بھائیوں کے درمیان خطابت کے جوہر دکھار ہا ہے اور کوئی برادران وطن کے نام انسانیت کا پیغام نشر کر رہا ہے، کوئی عربوں کو نصیحت کر رہا ہے اور کوئی اہلِ مغرب کو کھری کھری باتیں سنار ہا ہے۔ کوئی اہل بدعت کے خلاف قلمی جہاد کا کارنامہ انجام دے رہا ہے اور کوئی فرق ضالہ کی حقیقت کھولنے میں مصروف ہے۔ خود اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کا محاسبہ کرنے کی فرصت کسی کو نہیں۔
ان لفظی سورماؤں کی حقیقی زندگیوں کو دیکھیے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ سب کچھ ذاتی نمائش کا کاروبار ہے نہ کہ دین وملت کی خدمت کا، ہر ایک زبان سے حق وانصاف کا پیغام دے رہا ہے اور عمل سے حق وانصاف کو پا مال کر رہا ہے۔ ایک شخص قوم کی تعمیر کا نعرہ لگا رہا ہوگا۔ مگر خود اپنے زیر معاملہ فرد قوم کو برباد کر رہا ہوگا۔ ایک شخص دوسروں کو انسانیت کا پیغام سنار ہا ہوگا اور خود اس سے جس انسان کا معاملہ پڑے اس سے حیوانی سلوک کر رہا ہوگا۔ ایک شخص دوسروں سے انصاف قائم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہوگا اور خود جب ایک شخص سے انصاف کرنے کا وقت آئے گا تو ہاں وہ بے انصافی کرنے لگے گا۔
قرآن میں شاعر اور نبی کا یہ فرق بتایا گیا ہے کہ شاعر ایسی بات کہتا ہے جس پر وہ خود عامل نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس نبی جو کچھ کہتا ہے وہی کرتا بھی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے قائدین شاعروں کے اسوہ پر چل رہے ہیں نہ کہ پیغمبروں کے اسوہ پر۔ مگر اللہ تعالیٰ کے یہاں جس چیز کی قیمت ہے وہ صرف عمل ہے، اگر آدمی زبان سے فساد اور نا انصافی کے خلاف آواز لگا رہا ہو مگر خود عملی اعتبار سے فساد اور نا انصافی کے مقام پر ہو تو آخرت میں اس کے ساتھ معاملہ اس کے عمل کے اعتبار سے کیا جائے گا نہ کہ اس کے قول کے اعتبار سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues