ان کا مکمل انقلاب جزئی انقلاب بھی نہ بن سکا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۱
اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں ۔ تو چاہئے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ تمھارے لئے روزہ کی رات میں اپنی بیویوں کے پاس جانا جائز کیا گیا ۔ وہ تمھارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ اللہ نے جانا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے تو اس نے تم پر عنایت کی اور تم کو معاف کر دیا۔ تو اب تم ان سے ملو اور چاہو جو اللہ نے تمھارے لئے لکھ دیا ہے۔ اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری کالی دھاری سے الگ ظاہر ہو جائے پھر پورا کرو روزہ رات تک۔ اور جب تم مسجد میں اعتکاف میں ہو تو بیویوں سے خلوت نہ کرو۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں تو ان کے نزدیک نہ جاؤ۔ اس طرح اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تاکہ وہ بچیں۔ اور تم آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناحق طور پر نہ کھاؤ اور ان کو حاکموں تک نہ پہنچاؤ تاکہ دوسروں کے مال کا کوئی حصہ تم کو مل جائے ۔ حالاں کہ تم اس کو جانتے ہو ۔ ۱۸۶ - ۱۸۸ روزہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے صبر کا عمل ہے اور صبر، یعنی حکم الہی کی تعمیل میں مشکلات کو برداشت کرنا ہی وہ چیز ہے جس سے آدمی اس قلبی حالت کو پہنچتا ہے جو اس کو خدا سے قریب کرے اور اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلواۓ جو قبولیت کو پہنچنے والے ہوں۔ اللہ کو وہی پاتا ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرے، اللہ تک اسی شخص کے الفاظ پہنچتے ہیں جس نے اپنی روح کے تاروں کو اللہ سے ملا رکھا ہو۔
شریعت آدمی کے اوپر کوئی غیر فطری پابندی عائد نہیں کرتی۔ روزہ میں دن کے اوقات میں ازدواجی تعلق ممنوع ہونے کے باوجود رات کے اوقات میں اس کی اجازت ، افطار وسحر کے اوقات جاننے کے لئے جنتری کا پابند کرنے کے بجائے عام مشاہدہ کو بنیاد قرار دینا اسی قسم کی چیزیں ہیں۔ جزئی تفصیلات میں بندوں کو گنجائش دیتے ہوئے اللہ نے عمومی حدیں واضح فرما دی ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ مقرر حدوں کا پوری طرح پابند رہے اور تفصیلی جزئیات میں اس روش کو اختیار کرے جو تقویٰ کی روح کے مطابق ہے۔
روزہ کے حکم کے فوراً بعد یہ حکم کہ "ناجائز مال نہ کھاؤ" بتاتا ہے کہ روزہ کی حقیقت کیا ہے۔ روزہ کا اصل مقصد آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرنا ہے کہ جہاں خدا کی طرف سے رکنے کا حکم ہو وہاں آدمی رک جائے، حتی کہ اگر حکم ہو تو جائز چیز سے بھی، جیسا کہ روزہ میں ہوتا ہے۔ اب جو شخص خدا کے حکم کی بنا پر حلال کمائی تک سے رک جائے وہ اسی خدا کے حکم کی بنا پر حرام کمائی سے کیوں نہ اپنے آپ کو روکے رکھے۔
مومن کی زندگی ایک قسم کی روزہ دار زندگی ہے۔ اس کو ساری عمر کچھ چیزوں سے "افطار" کرنا ہے اور کچھ چیزوں سے مستقل طور پر "روزہ" رکھ لینا ہے۔ رمضان کا مہینہ اسی کی تربیت ہے۔ پھر روزہ کی محتاط زندگی اور اس کا پر مشقت عمل یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کا عبادت گزار بندہ وہ ہے جو تقویٰ کی سطح پر اللہ کی عبادت کر رہا ہو۔ اللہ کو پکارنے والا صرف وہ ہے جو قربانیوں کی سطح پر اللہ کی نزدیکی حاصل کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues