Al-Risala · December 1979 · page 22

ان کا مکمل انقلاب جزئی انقلاب بھی نہ بن سکا

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۲

وہ تم سے چاندوں کی بابت پوچھتے ہیں۔ کہو کہ وہ اوقات ہیں لوگوں کے لئے اور حج کے لئے۔ اور نیکی یہ نہیں کہ تم گھروں میں آؤ چھت پر سے۔ بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی پر ہیز گاری کرے ۔ اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو۔ اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو لڑتے ہیں تم سے۔ اور زیادتی نہ کر دو۔ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور قتل کرو ان کو جس جگہ پاؤ اور نکال دو ان کو جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا ہے۔ اور فتنہ سخت تر ہے قتل سے۔ اور ان سے مسجد حرام کے پاس نہ لڑو جب تک کہ وہ تم سے اس میں جنگ نہ چھیڑیں۔ پس اگر وہ تم سے جنگ چھیڑیں تو ان کو قتل کرو۔ یہی سزا ہے منکروں کی۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔ اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو اس کے بعد سختی نہیں ہے مگر ظالموں پر ۹۳-۱۸۹ چاند کا گھٹنا بڑھنا تاریخ جاننے کے لئے ہے نہ کہ توہم پرستوں کے خیال کے مطابق اس لئے کہ بڑھتے چاند کے دن مبارک ہیں اور گھٹتے چاند کے دن منحوس ۔ یہ آسمان پر ظاہر ہونے والی قدرت کی جنتری ہے تاکہ اس کو دیکھ کر لوگ اپنے معاملات اور اپنی عبادات کا نظام مقرر کریں۔ اسی طرح بہت سے لوگ ظاہری رسوم کو دینداری سمجھ لیتے ہیں۔ قدیم عربوں نے یہ فرض کر لیا تھا کہ حج کا احرام باندھنے کے بعد اپنے اور آسمان کے درمیان کسی چیز کا حائل ہونا آداب احرام کے خلاف ہے۔ اس مفروضہ کی بنا پر وہ ایسا کرتے کہ جب احرام باندھ کر گھر سے باہر آجاتے تو دوبارہ دروازہ کے راستہ سے گھر میں نہ جاتے بلکہ دیوار کے اوپر سے چڑھ کر صحن میں داخل ہوتے۔ مگر اس قسم کے ظاہری آداب کا نام دین داری نہیں۔ دین داری یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرے اور زندگی میں اس کی مقرر کی ہوئی حدوں کی پابندی کرے۔

مومن کو دین کا عامل بننے کے ساتھ دین کا مجاہد بھی بننا ہے۔ یہاں جس جہاد کا ذکر ہے وہ جہاد وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیش آیا۔ عرب کے مشرکین اتمام حجت کے باوجود دعوت رسالت سے انکار کرکے اپنے لئے زندگی کا حق کھو چکے تھے، نیز انھوں نے جارحیت کا آغاز کر کے اپنے خلاف فوجی اقدام کو درست ثابت کر دیا تھا اس بنا پر ان کے خلاف تلوار اٹھانے کا حکم ہوا۔ ” اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے ‘‘۔ کا مطلب یہ ہے کہ سرزمین عرب سے شرک کا خاتمہ ہو جائے اور دین توحید کے سوا کوئی دین وہاں باقی نہ رہے۔ اس حکم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے عرب کو توحید کا دائمی مرکز بنا دیا۔

اہل ایمان کو جنگ کی اجازت صرف اس وقت ہے جب کہ فریق مخالف کی طرف سے حملہ کا آغاز ہو چکا ہو۔ دوسرے یہ کہ جب اہل ایمان غلبہ پالیں تو اس کے بعد ماضی پر کسی کے لئے کوئی سزا نہیں۔ ہتھیار ڈالتے ہی ماضی کے جرائم معاف کر دئے جائیں گے۔ اس کے بعد سزا کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جو آئندہ کسی قابل سزا جرم کا ارتکاب کرے ۔ عام حالات میں قتل کا حکم اور ہے اور جنگی حالات میں قتل کا حکم اور ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues

Printed page