Al-Risala · December 1979 · page 24

ان کا مکمل انقلاب جزئی انقلاب بھی نہ بن سکا

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۴

اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ کے لئے۔ پھر اگر تم گھر جاؤ تو قربانی کا جانور میسر ہو وہ پیش کر دو اور اپنے سروں کو نہ منڈاؤ جب تک کہ قربانی اپنے ٹھکانے پر نہ پہنچ جائے۔ تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ فدیہ دے روزہ یا صدقہ یا قربانی کا۔ جب امن کی حالت ہو اور کوئی حج تک عمرہ کا فائدہ حاصل کرنا چاہے تو وہ قربانی پیش کرے جو اس کو میسر آئے۔ پھر جس کو میسر نہ آئے تو وہ حج کے ایام میں تین دن کے روزے رکھے اور سات دن کے روزے جب کہ تم گھروں کو لوٹو۔ یہ پورے دس ہوئے۔ یہ اس شخص کے لئے ہے جس کا خاندان مسجد حرام کے پاس آباد نہ ہو۔ اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ حج کے متعین مہینے ہیں۔ پس جس نے حج کا عزم کر لیا تو پھر اس کو حج کے دوران نہ کوئی فحش بات کرنی ہے اور نہ گناہ کی اور نہ لڑائی جھگڑے کی۔ اور جو نیک کام تم کرو گے اللہ اس کو جان لے گا۔ اور تم تقویٰ کا زاد راہ لو، بہترین زاد راہ تقویٰ کا زاد راہ ہے۔ اور اے عقل والو مجھ سے ڈرو ۔ ۱۹۷۔۱۹۶ زمانہ جاہلیت کے عربوں میں بھی حج کا رواج تھا۔ مگر وہ ان کے لئے گویا ایک قومی رسم یا تجارتی میلہ تھا نہ کہ اللہ واحد کی عبادت۔ مگر حج و عمرہ ہو یا اور کوئی عبادت، ان کی اصل قیمت اسی وقت ہے جب کہ وہ خالصتہً اللہ کے لئے ادا کی جائیں۔ جو شخص اپنی روزانہ زندگی میں اللہ کا پرستار بنا ہوا ہو جب وہ اللہ کی عبادت کے لئے اٹھتا ہے تو اس کی ساری نفسیات سمٹ کر اسی کے اوپر لگ جاتی ہیں۔ وہ ایک ایسی عبادت کا تجربہ کرتا ہے جو ظاہری طور پر دیکھنے میں تو آداب و مناسک کا ایک مجموعہ ہوتی ہے، مگر اپنی اندرونی روح کے اعتبار سے وہ ایک ایسی ہستی کا اپنے آپ کو اللہ کے آگے ڈال دینا ہوتا ہے جو اللہ سے ڈرتا ہو اور آخرت کی پکڑ کا اندیشہ جس کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہو۔

مومن وہ ہے جو شہوت کے لئے جینے کے بجائے مقصد کے لئے جینے لگے۔ وہ اپنے معاملات میں خدا کی نافرمانی سے بچنے والا ہو اور اجتماعی زندگی میں آپس کی لڑائی جھگڑے سے بچارہے۔ حج کا سفر ان اخلاقی اور صفائی کی تربیت کے لئے بہت موزوں ہے، اس لئے اس میں خصوصی طور پر ان کی تاکید کی گئی۔ اسی طرح حج میں سفر کا پہلو لوگوں کو سامان سفر کے اہتمام میں لگا دیتا ہے۔ مگر اللہ کے مسافر کی سب سے بڑی زاد راہ تقویٰ ہے۔ ایک شخص سامان سفر کے پورے اہتمام کے ساتھ نکلے، دوسرا شخص اعتماد علی اللہ کا سرمایہ لے کر نکلے تو دوران سفر دونوں کی نفسیات یکساں نہیں ہو سکتیں ۔

"اے عقل والو میرا تقویٰ اختیار کرو"، سے معلوم ہوا کہ تقویٰ ایک ایسی چیز ہے جس کا تعلق عقل سے ہے۔ تقویٰ کسی ظاہری ہیئت کا نام نہیں، یہ عقل یا شعور کی ایک حالت ہے۔ انسان جب شعور کی سطح پر اپنے رب کو پا لیتا ہے تو اس کا ذہن اس کے بعد خدا کے جلال و جمال سے بھر جاتا ہے۔ اس وقت روح کی لطیف سطح پر جو کیفیات پیدا ہوتی ہیں انھیں کا نام تقویٰ ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues

Printed page