Al-Risala · December 1979 · page 25

البقرہ ۲

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۲۵

البقرہ ۲

اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرو۔ پھر جب تم لوگ عرفات سے واپس ہو تو اللہ کو یاد کرو مشعر حرام کے نزدیک۔ اور اس کو یاد کرو جس طرح اللہ نے بتایا ہے۔ اس سے پہلے یقیناً تم راہ بھٹکے ہوئے لوگوں میں تھے۔ پھر طواف کو چلو جہاں سے سب لوگ چلیں اور اللہ سے معافی مانگو۔ یقیناً اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ پھر جب تم اپنے حج کے اعمال پورے کر لو تو اللہ کو یاد کرو جس طرح تم پہلے اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ پس کوئی آدمی کہتا ہے : اے ہمارے رب ہم کو اسی دنیا میں دے دے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔ اور کوئی آدمی ہے جو کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ہم کو دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ اور اللہ کو یاد کرو مقرر دنوں میں۔ پھر جو شخص جلدی کر کے دو دن میں مکہ واپس آجائے اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو شخص ٹھہر جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں یہ اس کے لئے ہے جو اللہ سے ڈرے۔ اور تم اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان لو کہ تم اسی کے پاس اکٹھا کئے جاؤ گے۔ اصل چیز اللہ کا تقویٰ ہے۔ کسی کے اندر یہ مطلوب حالت موجود ہو تو اس کے بعد حج کے دوران معاشی ضرورت کے تحت اس کا کچھ کاروبار کر لینا یا بعض مراسم حج کی ادائیگی میں کسی کا آگے یا کسی کا پیچھے ہو جانا کوئی حرج پیدا نہیں کرتا۔ حج کے دوران جو فضا جاری رہنا چاہئے وہ ہے اللہ کا خوف، اللہ کی یاد، اللہ کی نعمتوں کا شکر، اللہ کے لئے حوالگی کا جذبہ۔ حج کے دوران کوئی ایسا فعل نہیں ہونا چاہئے جو ان کیفیات کے خلاف ہو۔ مثلاً کسی شخص یا گروہ کے لئے عبادت کی ادائیگی میں امتیاز، آباؤ اجداد کے کارنامے بیان کرنا جو گویا بالواسطہ طور پر اپنے کو نمایاں کرنے کی ایک صورت ہے۔ یہ چیزیں ایک ایسی عبادت کے ساتھ بے جوڑ ہیں جو یہ بتاتی ہو کہ تمام انسان یکساں ہیں، جس میں اس بات کا اعلان کیا جاتا ہو کہ تمام بڑائی صرف اللہ کے لئے ہے۔ حج کے زمانہ میں بھی اگر آدمی ان چیزوں کی تربیت حاصل نہ کرے تو زندگی کے بقیہ لمحات میں وہ کس طرح ان پر قائم ہو سکے گا۔ دعائیں، خاص طور پر حج کی دعائیں، آدمی کی اندرونی حالت کا اظہار ہیں۔ کوئی شخص آخرت کی عظمتوں کو اپنے دل میں لئے ہوئے حج رہا ہو تو حج کے مقامات پر اس کے دل سے آخرت والی دعائیں ابلیں گی۔ اس کے برعکس جو شخص دنیا کی چیزوں میں اپنا دل لگائے ہوئے ہو، وہ حج کے مواقع پر اپنے خدا سے سب سے زیادہ جو چیز مانگے گا وہ وہی ہوگی جس کی تڑپ لئے ہوئے وہ وہاں پہنچا تھا۔ اور سب سے بہتر دعا تو یہ ہے کہ آدمی اپنے رب سے کہے کہ خدایا دنیا میں تیرے نزدیک جو چیز بہتر ہو وہ مجھ کو دنیا میں دیدے اور آخرت میں تیرے نزدیک جو چیز بہتر ہو وہ مجھ کو آخرت میں دے دے اور اپنے عذاب سے مجھ کو بچا لے۔ ۔

تم اسی کے پاس اکٹھا کئے جاؤ گے" یہ حج کا سب سے بڑا سبق ہے جو عرفات کے میدان میں دنیا بھر کے لاکھوں انسانوں کو بیک وقت جمع کر کے دیا جاتا ہے۔ عرفات کا اجتماع قیامت کے اجتماع کی ایک تمثیل ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues

Printed page