Al-Risala · February 1979 · page 7

دوسروں سے پہلے اپنے کو جاننے کی ضرورت

الرسالہ، فروری ۱۹۷۹، صفحہ ۷

کبھی شکست بھی فتح ثابت ہوتی ہے اسلام کی قدیم تاریخ میں اغیار کی طرف سے اس کو دو بڑے فوجی مقابلے پیش آئے ہیں۔ ایک تاتاریوں سے، دوسرا مسیحیوں سے۔ تاتاریوں سے مقابلہ بارھویں صدی کے آخر میں پیش آیا۔ مسلم قوموں کو اس مقابلہ میں مکمل شکست ہوئی ۔ مگر اس شکست کے اندر سے حیرت انگیز طور پر ایک نیا امکان برآمد ہوگیا ۔ فتح نے تاتاریوں کے انتقامی جذبہ کو ختم کر دیا۔ اب وہ نفسیاتی طور پر اس پوزیشن میں تھے کہ مفتوح کے مذہب وعقائد پر بے آمیز رائے قائم کر سکیں ۔ انھیں نظر آیا کہ اسلام ایک سچا دین ہے اور اس میں خود ان کی اپنی بھلائی چھپی ہوئی ہے ۔ چنانچہ مسلمانوں کی شکست پر ایک صدی بھی نہیں گزری تھی کہ تاتاری حکمراں مسلمان ہو گئے اور سارا مسئلہ ایک نئی بہتر شکل میں ختم ہو گیا ۔ — فوجی میدان کے فاتح فطرت اور نفسیات کے میدان میں اپنے زندگی کے حقائق اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں کہ وہ فتح و شکست کی اصطلاحوں میں سما سکیں ۔

مقابلہ کی تیاری کے لئے استعمال کرنا شروع کیا ۔ ان کی یہ مخالفانہ کوششیں پانچ صدیوں تک جاری رہیں، یہاں تک کہ ان کی کامیابی اس انتہا کو پہنچی کہ انھوں نے قوت و طاقت کے نئے میدان دریافت کر لئے۔ انھوں نے مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبے میں شکست دے کر ساری دنیا پر اپنی سیادت کا جھنڈا گاڑ دیا۔ انھوں نے قدیم طرز کی ملاحی جہاز رانی کو ترقی دے کر زضافی جہاز رانی کے مقام پر پہنچایا اور اس کے زور پر تمام سمندروں پر قابض ہوگئے۔ انھوں نے دور مار ہتھیار تیار کر کے مسلم تلواروں کو کند کر دیا۔ انھوں نے مشینی صنعت ایجاد کر کے مسلم دستکاری کا خاتمہ کر دیا۔ انھوں نے سائنسی علوم وضع کر کے مسلمانوں کے روایتی علوم کو بے قیمت کر دیا۔ انھوں نے محکومی کی ایک نئی قسم (اقتصادی اور فنی محکومی) وجود میں لا کر تمام مسلم دنیا کو مجبور کیا کہ سیاسی مفتوحوں سے شکست کھا گئے ۔

مسیحی یورپ اور مسلمانوں کے درمیان مقابلہ اس کے برعکس مثال پیش کرتا ہے۔ مسیحی یورپ سے دوسوسالہ صلیبی لڑائی کے بعد مسلمانوں کو شان دار فتح حاصل ہوئی اور مسیحی اقوام کو بدترین شکست کے بعد واپس لوٹنا پڑا۔ مگر اس کے بعد کیا ہوا۔ سارے یورپ میں اپنے غالب حریف کے خلاف انتقام کی ایک نہ ختم ہونے والی آگ بھڑک اٹھی۔ اپنے تمام وسائل کو انھوں نے ایک نئے طور پر آزاد ہونے کے بعد بھی وہ انھیں کی غلام اور محکوم بنی رہے۔

پچھلی آٹھ سو سالہ تاریخ کا یہ تجربہ بتاتا ہے کہ وہ لوگ سخت غلطی پر ہیں جو صرف فتح و شکست کی اصطلاحوں میں سوچتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے حقائق اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں کہ فتح و شکست کی اصطلاحوں میں سما سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ فتح کبھی شکست ثابت ہوتی ہے اور شکست بھی کسی وقت فتح بن جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1979 All issues

Printed page