Al-Risala · February 1979 · page 6

دوسروں سے پہلے اپنے کو جاننے کی ضرورت

الرسالہ، فروری ۱۹۷۹، صفحہ ۶

دیکھئے کہ آپ کون سا درخت اگا رہے ہیں دنیا کا نظام اللہ تعالیٰ نے محکم قوانین کے تحت بنایا ہے اور اس کا فیصلہ ہے کہ وہ ان قوانین میں کسی قسم کی تبدیلی قبول نہیں کرے گا۔ (فاطر ۴۳)

انھیں قوانین الہیٰ میں سے ایک قانون یہ ہے کہ اس نے مقرر کر دیا ہے کہ جو لوگ سطحی نعروں اور جذباتی تقریروں پر اپنی قوم کو اٹھائیں گے، ان کی قومی زندگی برساتي جھاڑ جھنڈائر کی طرح ہوگی۔ وقتی طور پر تو وہ بہت نمایاں دکھائی دیں گے۔ مگر ان کے اندر کوئی پائیداری نہیں ہوگی۔ فاتحانہ نعروں پر اٹھنے والے لوگوں کے حصہ میں بالآخر صرف یہ فریاد آئے گی کہ" فلاں نے میرے درخت کو اکھاڑ دیا ہے۔ "

اس کے برعکس، جو لوگ گہری جڑوں اور دور رس منصوبوں پر اپنی قومی تعمیر کریں گے، ان کو مضبوط درختوں کی سی پائیداری حاصل ہوگی، جس کو کوئی اکھاڑ نہیں سکتا اور جو صدیوں تک انسانیت کو اپنا سایہ اور پھیں۔ دیتے رہتے ہیں۔ (ابراہیم: ۲۴-۲۷)

اگر آپ دنیا میں کوئی حقیقی مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے حقیقی بنیادوں پر اپنی تعمیر کی منصوبہ بندی کیجیے۔ اس صحیح مقام کو دریافت کیجیے جہاں سے صحیح اور پائیدار جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے۔ اگر آپ نے اپنے آغاز کو پایا تو آپ اپنے اختتام کو بھی پالیں گے، کیونکہ صحیح آغاز ہی کا دوسرا نام صحیح اختتام ہے۔

فضائی جاسوسی میں جو ہوائی جہاز استعمال ہوتے ہیں ان میں بہت نازک قسم کے کیمرے لگے رہتے ہیں۔ انتہائی بلندی پر اڑان کرنے کے باوجود ان کی تصویریں اتنی مکمل ہوتی ہیں کہ آدمی کے چہرے پر جذبات کا اتار چڑھاؤ تک دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ آواز سے تیز رفتار ہوائی جہاز عموماً دشمن کا نشانہ بننے سے بچ جاتے ہیں۔ اپنی آواز سے آگے پرواز کرنے کی وجہ سے ان کا پتہ زمین پر کھڑے ہوئے لوگوں کو اس وقت ملتا ہے جبکہ ہوائی جہاز ان کے اوپر سے گزر کر بہت دور پہنچ گیا ہو گویا زندگی کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ اپنا سفر اس طرح طے کریں کہ آپ کا حریف آپ کی کارگزاریوں سے صرف اس وقت واقف ہو جب کہ آپ اپنا کام پورا کر چکے ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1979 All issues

Printed page