Al-Risala · December 1979 · page 33

غصہ پی جانا ایمان کو بڑھاتا ہے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۳

اگر تم اسلام لاؤ گے تو تم پر رزق کی وسعت ہو جائے گی۔ اب وہاں قحط پڑ گیا ہے۔ مجھ ڈر ہے کہ وہ لالچ میں اسلام کو چھوڑ نہ دیں جس طرح لالچ میں انھوں نے اس کو اختیار کیا تھا۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو ان کی طرف کچھ بھیج دیجئے تاکہ ان کی اعانت ہو۔ آپ نے علی بن ابی طالبؓ کی طرف دیکھا۔ انھوں نے کہا: اے خدا کے رسول اس مال میں سے تو کچھ باقی نہیں رہا۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ میں نے قریب جاکر کہا "اے محمد! اگر آپ چاہیں تو کھجوروں کے معاوضہ میں مجھے سے رقم لے لیں"۔ آپ نے اتفاق فرمایا اور میں نے ۸۰ مثقال سونا آپ کو ادا کیا جو آپ نے سارا کا سارا اس آدمی کے حوالہ کر دیا۔ آپ نے فرمایا: ان کی مدد کرو اور انصاف کے مطابق ان کے درمیان تقسیم کر دو۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ میعاد سے دو تین دن پہلے میں نے پھر آپ کو ایک دیوار کے قریب پالیا۔ آپ کے ساتھ آپ کے بہت سے اصحاب بھی تھے۔ میں آپ کے پاس پہنچا۔ میں نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا اور سختی کے ساتھ بولا: اے محمد ! میرا حق کیوں نہیں ادا کرتے۔ خدا کی قسم جہاں تک میں جانتا ہوں سارے بنو عبد المطلب ٹال مٹول کرنے والے ہیں"، عمر رضی اللہ عنہ اس وقت آپ کے ساتھ تھے۔ یہ سن کر سخت غصہ میں آگئے انھوں نے کہا: اے خدا کے دشمن! تم رسول اللہ ﷺ کے لئے وہ کلمات کہہ رہے ہو جو میں سن رہا ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اگر آپ کا لحاظ نہ ہوتا تو میں اپنی تلوار سے تیرا سر توڑ دیتا"۔ تا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل سکون کے ساتھ مجھے دیکھتے رہے۔ پھر آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :

یا عمر، انا و هو کنا احوج الى غير هذا ، ان اے عمر! میں اور زید دونوں کسی اور رویہ کے زیادہ مستحق تأمرني بحسن الاداء وتأمره بحسن التقاضى - تھے تم مجھ سے بہتر ادائیگی کے لئے کہتے اور زید سے بہتر اذهب به یا عمر، فاعطہ حقه وزده عشرين تقاضے کے لئے۔ اے عمر، ان کو لے جاؤ۔ ان کا حق ادا کر دو اور ۲۰ صاع کھجور زیادہ دینا۔ کیوں کہ تم نے ان (طبرانی، ابن ماجه) کو ڈرایا دھمکایا ہے۔

غصہ پی جانا ایمان کو بڑھاتا ہے

عبد اللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ما من جرعة احب الى الله من جرعة غيظ اللہ کے نزدیک سب سے بہتر گھونٹ یہ ہے کہ بندہ اپنے يكظمها عبد - ما کظم عبد لله الا ملا الله جوفه غصہ کو پی جائے ، جب بھی کوئی بندہ اللہ کے لئے غصہ ایمانا (احمد) کو پی جاتا ہے تو اللہ اس کے باطن کو ایمان سے بھر دیتا ہے خوشامد اور تعریف سے کوئی اثر نہ لینا ابو نعیم نے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا: خدا کی قسم ہم نے کسی کو نہیں دیکھا جو آپ سے زیادہ انصاف کرنے والا ہو، حق بات کہنے والا ہو اور منافقین کے اوپر سخت ہو۔ اے امیر المومنین ! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر انسان ہیں"۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بھی

‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues

Printed page