اپنے خلاف تنقید کو پسند کرنا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۲
اپنے خلاف تنقید کو پسند کرنا
ابن المبارک نے موسیٰ بن ابو علی سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بنی حارثہ کے پانی (مشر بہ) پر آئے۔ وہاں انھوں نے محمد بن مسلمہ کو پایا۔ آپ نے پوچھا: اے محمد! تم میری بابت کیسا خیال کرتے ہو۔ انھوں نے کہا: "آپ کو خدا کی قسم میں ویسا ہی خیال کرتا ہوں جیسا کہ مجھے پسند ہے اور جیسا کہ وہ آدمی پسند کرے گا جو آپ کے لئے بھلا چکی کو پسند کرتا ہو۔ میں دیکھتا ہوں آپ مال کے جمع کرنے میں قوی ہیں۔ خود اس سے پرہیز کرتے ہیں۔ اس کی تقسیم میں انصاف کرتے ہیں۔ " اس کے بعد محمد بن مسلمہ نے کہا: "اور اگر آپ کج روی اختیار کریں گے تو ہم آپ کو اسی طرح سیدھا کر دیں گے جس طرح تیر سوراخ میں ڈال کر سیدھا کیا جاتا ہے۔ " خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا :
الحمد للہ الذی جعلنی فی قوم اذا ملت عدلونی اللہ کا شکر ہے جس نے مجھ کو ایسی قوم میں بنایا کہ اگر میں (کنز العمال) کجی کروں تو وہ مجھ کو سیدھا کر دیں نفرت اور محبت سے اوپر اٹھ کر معاملہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت کی تو اس وقت کعبہ کی کلید (کنجی) عثمان بن طلحہ کے پاس تھی جو قدیم زمانہ سے ان کے خاندان میں چلی آ رہی تھی۔ ہجرت سے پہلے آپ نے ایک بار کعبہ کی کلید عثمان بن طلحہ سے مانگی تو انھوں نے دینے سے انکار کیا اور آپ کو سخت سست کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تمام ناگوار باتوں کو برداشت کر لیا اور صرف یہ فرمایا : اے عثمان! شاید تم دیکھو گے کہ یہ کلید ایک روز میرے ہاتھ میں ہوگی اور میرے اختیار میں ہوگا کہ میں جس کو چاہوں اسے دوں۔ عثمان بن طلحہ نے کہا: "وہ دن قریش کی ذلت و ہلاکت کا دن ہوگا جب کعبہ کی کلید تمھارے جیسے آدمی کے ہاتھ میں آ جائے۔ " فتح مکہ کے بعد جب آپ کو غلبہ حاصل ہو گیا، آپ نے کعبہ کی کلید منگوائی کلید آپ کے ہاتھ میں تھی کہ آپ کے چچازاد بھائی اور داماد علی بن ابی طالب کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ کلید آپ مجھ کو دے دیں۔ آپ نے علی بن ابی طالب کو کوئی جواب نہیں دیا۔ آپ نے کہا: عثمان بن طلحہ کہاں ہیں۔ وہ آئے تو آپ نے فرمایا: ہات مفتاحك يا عثمان - اليوم يوم بر و وفاء اے عثمان! یہ اپنی کلید لو۔ آج کا دن نیکی کا اور وعدہ (زاد المعاد) پورا کرنے کا دن ہے۔
جہالت کے مقابلہ میں صبر اور برد باری
زید بن سعنہ منہ مدینہ کے ایک یہودی عالم تھے جو بعد کو مسلمان ہو گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میں نے ان کے چہرہ پر نبوت کی تمام علامتیں پالیں۔ تاہم دو علامت باقی رہ گئی تھی ۔ یہ کہ ان پر برد باری غالب رہے گی ۔ کسی کا جہالت میں زیادتی کرنا آپ کی بردباری کو اور زیادہ بڑھائے گا۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے دیکھا کہ آپ آرہے ہیں اور آپ کے ساتھ علی بن ابی طالب بھی ہیں۔ اتنے میں ایک آدمی اونٹ پر سوار ہو کر آیا۔ وہ بظاہر بدوی معلوم ہوتا تھا، اس نے کہا اے خدا کے رسول میری جماعت فلاں قریہ میں اسلام لائی ہے۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues