Al-Risala · December 1979 · page 35

صاحب حق کی سختی کو برداشت کرنا برکت کا باعث ہے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۵

پیشانی سے ادا کرتے ہیں۔ پھر فرمایا:

لا قدس اللہ امۃ لا یاخذ ضعیفہا حقہ من اللہ اس امت کو بابرکت نہیں کرتا جس میں اس کا کمزور شدیدھا ولا یتعتهه (الترغیب والترہیب) اس کے قوی سے اپنا حق بلا زحمت نہ لے سکے۔ تعریف سے خود پسندی کے بجائے تواضع پیدا ہوتا ابو نعیم نے نافع ی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ ایک شخص عبداللہ بن عمر رض کے سامنے ان کی تعریف کرنے لگا اور کہا: یا خیر الناس، یا ابن خیر الناس (اے لوگوں میں بہتر، اے لوگوں میں بہتر کے بیٹے) ابن عمر نے فرمایا: ما انا بخیر الناس ولا ابن خیر الناس۔ ولکنی عبد میں لوگوں میں بہتر نہیں ہوں نہ لوگوں میں بہتر کا بیٹا ہوں۔ من عباد اللہ ارجو اللہ تعالی و اخافه۔ واللہ من بلکہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بنوہ ہوں، اللہ سے امید تزالوا بالرجل حتى تهلکوہ (حلیۃ الاولیاء جلد ۱) لگائے ہوئے ہوں اور اس سے ڈرتا ہوں۔ خدا کی قسم تم آدمی کی تعریف کر کر کے اس کو ہلاک کر دو گے۔

اس معاشرہ میں کوئی بھلائی نہیں جہاں نصیحت کو برا مانا جائے ابن عساکر نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ انھوں نے کہا: تمھارا آج کا معروف گزرے ہوئے زمانہ کا منکر ہے۔ اور تمھارا آج کا منکر آنے والے زمانہ کا معروف ہوگا۔ بے شک تم لوگ اس وقت تک حق پر رہو گے جب تک تم منکر کو پہچانتے رہوگے اور معروف کا انکار نہ کروگے۔ اور جب تک تمھارا یہ حال رہے گا کہ تمھارا عالم کھڑا ہو کر تم کو نصیحت کرے گا اور اس کو ہلکا نہ سمجھا جائے گا۔ (وما قام عالمکم يتکلم بينکم غير مستخف ، کنز العمال جلد ۲ صفحہ ۱۳۰)

حکمران سے ٹکرانے کے بجائے اپنے دائرہ میں کام کرنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ابو ذر! جب ایسا ہوگا کہ تمھارے امیر عام لوگوں سے زیادہ حصہ لیں گے، اس وقت تم کیا کرو گے۔ حضرت ابوذرؓ نے جواب دیا: اے خدا کے رسول میں تلوار سے کام لوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تم تلوار سے کام لینے کے بجائے صبر سے کام لینا۔ یہاں تک کہ تم (آخرت میں) میرے پاس آجاؤ۔ " حضرت ابو ذر رض اگر چہ حق گوئی سے کبھی نہ رکے مگر انھوں نے حاکم وقت کے خلاف کبھی تلوار نہیں اٹھائی۔ یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے چلے گئے۔ نصیحت کی بات کہنے میں کسی کا خوف نہ کرو تم میں سے کوئی اپنے آپ کو اس امر میں حقیر نہ سمجھے کہ وہ کسی بات کو دیکھے جس کے متعلق اس کا فرض ہو کہ وہ امر حق کو ظاہر کرے، مگر اپنی کم زوری کے خیال سے دہ چپ رہے۔ قیامت میں جب وہ خدا کے سامنے حاضر ہوگا اور وہ اس موقع کو بھول چکا ہوگا، خدا اس سے پوچھے گا: تو نے سچائی کی بات کیوں نہ کہی۔ وہ کہے گا کہ پر وردگار لوگوں کے ڈر سے۔ خدا فرمائے گا: کیا خدا تیرے سامنے نہ تھا جس سے تو ڈرتا۔ (ابن ماجہ)

‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues

Printed page