Al-Risala · December 1979 · page 36

صاحب حق کی سختی کو برداشت کرنا برکت کا باعث ہے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۶

(انگریزی سے ترمہمہ)

مسلم مورخین کے مطابق، محمد ۲۰ اپریل ۵۷۱ کو عرب کے صحرا میں پیدا ہوئے۔ آپ کے نام کا مطلب ہے بہت تعریف کیا ہوا۔ میرے نزدیک وہ تمام فرزندانِ عرب میں سب سے زیاوہ عالی دماغ انسان تھے۔ سرخ ریت کے اس ناقابلِ عبور صحرا میں جتنے شاعر اور بادشاہ ان سے پہلے یا ان کے بعد ہوئے، ان سب پر وہ دہر جہان زیادہ فوقیت رکھتے تھے۔ محمد کا ظہور ہوا تو عرب ایک صحرا تھا، وہ کچھ بھی نہ تھا۔ خالی صحرا سے محمد کی طاقت در روح نے ایک نئی دنیا بنائی۔ نئی زندگی، نیا کلچر، نئی تہذیب اور نئی سلطنت پیدا کی جو مراکش سے انڈریٹک تک پھیلی ہوئی تھی اور جس نے تین براعظموں (ایشیا، افریقہ، یورپ) کے خیالات اور زندگی کو متاثر کیا۔

میری اس تحریر کا موضوع ایک ایسے مذہب کے اصولوں کی بابت لکھنا ہے جو تاریخی ہے اور اس کا پیغمبر بھی ایک تاریخی شخصیت ہے۔ سرولیم میور جیسا ایک معاند ناقد بھی قرآن کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتا ہے: "دنیا میں غالباً قرآن کے سوا کوئی دوسری کتاب نہیں ہے جس کا متن بارہ سو سال گزرنے کے بعد بھی اس درجہ خالص - صورت میں محفوظ ہو" میں بھی اضافہ کروں گا کہ حضرت محمد ایک تاریخی شخصیت ہیں۔ آپ کی زندگی کا ہر واقعہ نہایت احتیاط سے منضبط کیا گیا ہے حتیٰ کہ چھوٹی چھوٹی تفصیلات بھی آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کر دی گئی ہیں۔ - آپ کی زندگی اور آپ کا کام پراسراریت کے پردہ میں چھپا ہوا نہیں ہے۔ یہ ضرورت نہیں ہے کہ ایک شخص صحیح معلومات کے لئے اس مشکل جم کو سر کرے کہ وہ بھس کے ڈھیر میں سے چھان کر سچائی کے دانے نکالے۔

میرا کام اس لئے بھی ہلکا ہو چکا ہے کہ وہ زمانہ اب بہت تیزی سے رخصت ہو رہا ہے جب کہ کچھ ناقدین سیاسی اور غیر سیاسی وجوہ سے اسلام کو بہت بگاڑ کر پیش کرتے تھے۔ پروفیسر ہیوان "کیمبرج میڈیول ہسٹری" میں لکھتے ہیں " محمد اور اسلام کے بارے میں جو یورپ میں ۱۹ ویں صدی کے آغاز سے پہلے چھپتی تھیں آج ان کو محض قلعی عجوبہ سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اسلام اور تلوار کا نظریہ آج کہیں بھی قابل لحاظ نہیں سمجھا جاتا - اسلام کا یہ اصول کہ مذہب میں کوئی زبردستی نہیں، آج سب کو پوری طرح معلوم ہے۔ مشہور مورخ گبن نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کی طرف ایک مجرمانہ اصول منسوب کیا جاتا رہا ہے کہ ہر مذہب کو تلوار کے زور سے ختم کر دیا جائے یہ مگر گبن کہتا ہے کہ جہالت اور تعصب کا یہ الزام قرآن سے، مسلم فاتحین کی تاریخ سے نیز مسلم عوام کے رویہ سے غلط ثابت ہوتا ہے جو کہ ہمیشہ قانونی اور سماجی طور پر مسیحی عبادت کے ساتھ رواداری کا طریقہ اختیار کرتے رہے ہیں محمد کی زندگی کی عظیم کامیابی صرف اخلاقی طاقت کے ذریعہ ہوئی ، تلوار کی کسی مار کے بغیر۔

قدیم زمانہ میں عربوں کا یہ حال تھا کہ اتنی معمولی سی بات پر دہ چالیس سال تک لڑتے رہتے کہ ایک قبیلہ کا ایک اونٹ بھٹک کر دوسرے قبیلہ کی چراگاہ میں چلا گیا۔ اس جنگ میں دونوں قبیلوں کے ستر ہزار آدمی مارے گئے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues

Printed page