صاحب حق کی سختی کو برداشت کرنا برکت کا باعث ہے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۸
دے دی اور اس کی اہمیت شاید کچھ دنوں بعد پوری طرح سمجھی جا سکے جب کہ بین الالالالاقوامی شعور جاگے گا، نسلی تعصبات ختم ہو جائیں گے اور انسانجی اخوت کا ٹکڑا طاقت ور نظریہ وجود میں آجائے گا۔ سروجنی نائیڈو اسلام کے اس پہلو پر بولتی ہوئی لکھتی ہیں : ’’وہ پہلا مذہب تھا جس نے جمہوریت کی تبلیغ کی اور اس کو عمل کی صورت دی۔ کیوں کہ مسجد میں جب اذانیں بلند ہوتی ہیں اور نمازی ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں تو اسلام کی جمہوریت روزانہ پانچ بار مجسم ہوتی ہے جب کہ معمولی آدمی اور بادشاہ ایک صف میں شامل ہو کر جھکتے ہیں اور کہتے ہیں: ”خدا سب سے بڑا ہے‘‘۔ ہندوستان کی یہ مشہور شاعرہ مزید کہتی ہے: ’’میں اسلام کی اس ناقابل تقسیم وحدت کو دیکھ کر بار بار حیران ہوتی ہوں جو کہ آدمی کو طبعی طور پر بھائی بھائی بنا دیتی ہے۔ جب آپ ایک مصری، ایک جیریائی، ایک ہندوستانی یا ترکی سے لندن میں ملتے ہیں تو میں جو فرق ملے گا وہ صرف اتنا سا کہ ایک کی پیدائش مصر میں ہوئی اور دوسرے کی ہندوستان میں۔ ‘‘ مہاتما گاندھی اپنے ناقابل تقلید انداز میں لکھتے ہیں ’’کسی نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ کے لوگ اسلام کے ظہور سے ڈر رہے ہیں۔ ۔ وہ اسلام جس نے اسپین کو مہذب بنایا، وہ اسلام جو روشنی کی شمع کو مراکش تک لے گیا اور دنیا کو اخوت کا مقدس پیغام دیا۔ جنوبی افریقہ کے یورپی لوگ اسلام کے ظہور سے ڈر رہے ہیں کیوں کہ اسلام آئے گا تو وہ کالوں اور گوروں میں برابری کا اعلان کرے گا۔ ان کو اس سے ڈرنا ہی چاہئے۔ اگر اخوت ایک گناہ ہے، اگر مختلف نسلوں میں برابری وہ چیز ہے جس سے وہ ڈرتے ہیں تب ان کا ڈر بالکل بجا ہے۔ ‘‘ ہر سال حج کے موسم میں دنیا اسلام کے اس حیرت ناک بین اقوامی مظاہرہ کو دیکھتی ہے جو کہ نسل، رنگ اور رتبہ کے تمام فرق کو برابر کر دیتا ہے۔ نہ صرف یورپی، افریقی، ایرانی، ہندوستانی، چینی سب کے سب ایک خدائی خاندان کے ممبر کی حیثیت سے مکہ میں ملتے ہیں۔ بلکہ سب کے سب ایک قسم کے لباس پہنے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہر آدمی معمولی سفید بغیر سلے ہوئے کپڑے کے دو ٹکڑے لپیٹے ہوئے ہوتا ہے۔ ایک ٹکرا کمر کے گرد اور دوسرا ایک کندھے کے اوپر۔ اسی کے ساتھ ننگے سر، بغیر کسی رسم اور کسی دھوم دھام کے اور یہ آواز لگاتے ہوئے’’ میں حاضر ہوں، خدا یا میں حاضر ہوں، تو ایک ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔ حکم صرف تیرا ہی ہے! اس طرح یہاں ایسی کوئی چیز باقی نہیں رہتی جو چھوٹے اور بڑے کے درمیان فرق کرے، اور ہر حاجی یہ احساس لے کر گھر واپس آتا ہے کہ اسلام ایک بین اقوامی اہمیت رکھنے والا دین ہے۔ پروفیسر ہر گرو نی کے الفاظ میں ’’ اقوام کی جمعیت جو پیغمبر اسلام نے بنائی ، اس نے بین اقوامی اتحاد اور انسانی اخوت کے اصول کو ایسی عالمی سطح پر قائم کیا ہے جو دوسری قوموں کو روشنی دکھانے والا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی دوسری قوم اتحاد اقوام کے لئے اس کے برابر کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔
پیغمبر اسلام نے جمہوری حکومت کو اس کی بہترین صورت میں قائم کیا۔ خلیفہ عمر رض، خلیفہ علی رض، جو پیغمبر کے داماد بھی تھے، خلیفہ منصور عباسی جو خلیفہ مامون کے بیٹے تھے اور دوسرے بہت سے خلفاء اور سلاطین اسلامی عدالتوں میں معمولی آدمی کی طرح حاضر ہوئے۔ آج بھی، ہم سب جانتے ہیں کہ کالے نیگرؤوں کے ساتھ مہذب سفید نسلوں کا سلوک کیا ہوتا ہے۔ اب بلال رض کی بابت غور کرو جو چودہ سو سال پہلے پیغمبر اسلام کے زمانے میں ایک نیگرو غلام تھے۔ نماز کے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues