صاحب حق کی سختی کو برداشت کرنا برکت کا باعث ہے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۳۴
اور خطرہ پیدا ہو گیا کہ دونوں قبیلوں کی نسل ختم ہو جائے گی۔ ایسے جھگڑا لو عربوں کو پیغمبر اسلام نے خود انضباطی اور تعلیم کی تعلیم یہاں تک دی کہ میدانِ جنگ میں بھی ان کو نماز پڑھنے کا حکم دیا۔
صلح کے لئے آپ کا منصوبہ جب بار بار کوشش کے باوجود ناکام ہو گیا تو ایسے حالات پیدا ہوئے جو آپ کو کھینچ کر میدان جنگ میں لے آئے ۔ آپ کا یہ اقدام محض دفاع کے لئے تھا۔ تاہم انھوں نے میدان جنگ کے پورے طریق عمل کو بالکل بدل دیا۔ ان کی پوری زندگی میں جو لڑائیاں ہوئیں، ان سب میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد، جب کہ پورا جزیرہ نمائے عرب ان کے جھنڈے کے نیچے آگیا، چند سو سے زیادہ نہیں۔ انھوں نے عرب وحشیوں کو نماز پڑھنا سکھایا، محض انفرادی طور پر نہیں، بلکہ اجتماعی طور پر، حتیٰ کہ انھوں نے ہدایت کی جنگ کے طوفان میں بھی اپنے خدا کے آگے سجدہ کرد۔ جب بھی عبادت کا وقت آجائے ، اور یہ روزانہ پانچ وقت آتا ہے، تو اجتماعی عبادت چھوڑی نہیں جاسکتی، حتیٰ کہ ملتوی بھی نہیں کی جا سکتی۔ لشکر کا ایک حصہ اگر دشمنوں سے مقابلہ میں مصروف رہے تو اس کا دوسرا حصہ اپنے خدا کے سامنے اپنے سروں کو جھکا دے۔ جب ایک فریق اپنی عبادت ختم کرلے تو وہ مورچہ سنبھال لے اور دوسرا فریق آکر اپنی عبادت کرے ۔
وحشت و بربریت کے زمانہ میں میدان جنگ تک پر انسانیت کا اصول جاری کیا گیا ۔ سخت ہدایات جاری کی گئیں کہ خیانت نہ کی جائے۔ دھوکا نہ دیا جائے ۔ عہد کو توڑا نہ جائے ۔ ہاتھ پاؤں نہ کاٹے جائیں۔ عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کیا جائے ۔ پھل دار درختوں کو نہ کاٹا جائے اور نہ جلایا جائے۔ عبادت گاہوں میں عبادت کرنے والے لوگوں پر زیادتی نہ کی جائے۔ پیغمبر کا خود اپنا طرزِ عمل اپنے سخت ترین دشمنوں کے ساتھ نمونہ کا طرزِ عمل تھا۔ مکہ کی فتح کے بعد ان کو پورا اقتدار حاصل ہو گیا تھا ، وہ شہر جس نے آپ کا پیغام سننے سے انکار کر دیا تھا۔ جس نے آپ کے اور پر اور آپ کے ساتھیوں کے اور شدید ظلم کئے تھے۔ جس نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ حتیٰ کہ جب آپ اپنا وطن چھوڑ کر دو سو میل دور (مدینہ) چلے گئے ، اس وقت بھی انھوں نے آپ کا بائیکاٹ کرنے اور آپ کو تکلیفیں پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ آج وہ شہر کہ آپ کے قدموں کے نیچے تھا۔ جنگ کے مسلمہ قوانین کے مطابق وہ ان تمام مظالم کا بدلہ لے سکتے تھے جو آپ پر اور آپ کے لوگوں پر کئے گئے تھے۔ مگر آپ نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ محمد کا دل رحم اور محبت کے دودھ سے بھر گیا۔ آپ نے اعلان کیا : آج تمھارے اوپر کوئی الزام نہیں۔ آج تم سب آزاد ہو۔
یہ ان مقاصد میں سے ایک اہم مقصد تھا کہ کیوں آپ نے دفاع میں جنگ کرنے کی اجازت دی۔ اس لئے تاکہ انسانوں کو متحد کیا جا سکے۔ اور جب یہ مقصد حاصل ہو گیا تو آپ کے بدترین دشمن تک معاف کر دیئے گئے۔ وہ لوگ جنہوں نے آپ کے محبوب چچا حمزہ کو قتل کیا تھا ، ان کے مردہ جسم کا مثلہ کیا تھا وہ بھی آپ کی مہربانیوں سے محروم نہ رہے۔ عالمی اخوت اور انسانی مساوات کا اصول جس کی آپ نے تبلیغ کی وہ انسانیت کی سماجی ترقی میں بہت بڑا درجہ رکھتے ہیں۔ تمام بڑے مذاہب نے اس قسم کے اصولوں کی تبلیغ کی ہے مگر پیغمبر اسلام نے اس نظریہ کو حقیقی عمل کی صورت دی سال دسمبر ۱۹۷۹ء
‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues