صاحب حق کی سختی کو برداشت کرنا برکت کا باعث ہے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴۰
اختیار کیا اور وہاں ایک قانون پاس ہوا جس کا نام تھا شادی شدہ عورتوں کا قانون (رڈی میرڈ ویمنز ایکٹ) مگر صدیوں پہلے پیغمبر اسلام یہ اعلان کر چکے تھے کہ عورتیں مرد کا نصف ثانی ہیں۔ عورتوں کا حق ہر حال میں محترم ہے، نگرانی رکھو کہ عورتوں کو وہ حق ملتا رہے جو ان کو دیا گیا ہے۔
اسلام براہ راست طور پر سیاسی اور اقتصادی نظام سے تعلق نہیں رکھتا۔ مگر بالواسطہ طور پر اور جہاں تک سیاسی اور اقتصادی معاملات انسان کے طور طریقے اور اخلاقیات کو متاثر کرتا ہے، وہ اقتصادی زندگی کے لئے کچھ نہایت اہم اصول مقرر کرتا ہے۔ پروفیسر عیسیٰ تن کے مطابق، اسلام مبالغہ آمیز انتہاؤں کے درمیان توازن کو برقرار رکھتا ہے اور ہمیشہ کردار کی تعمیر پر زور دیتا ہے جو کہ تہذیب کی بنیاد ہے۔ اس کی ضمانت چند بنیادی احکام کے ذریعہ کی گئی ہے ۔ اس کا وراثت کا قانون، زکوٰۃ کا نظم اور لازمی نظام، اقتصادی میدان میں تمام سماج دشمن طریقوں کو غیر قانونی قرار دینا جیسے اجارہ داری، سود، پیشگی طور پر طے کی ہوئی اور بغیر کمائی ہوئی آمدنیاں، بازار کا سب سامان خرید لینا، ذخیرہ اندوزی، کسی چیز کی مصنوعی قلت پیدا کرنا تا کہ قیمتوں میں اضافہ ہو، اسی طرح جو اثر غیر قانونی ہے۔ اس کے برعکس تعلیم گاہوں، عبادت خانوں، اسپتالوں، کنولوں، یتیم خانوں کو امداد دینا بہت بڑی نیکی قرار دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلی بار ایسا ہوا کہ پیغمبر اسلام کی تعلیم کے تحت یتیم خانے قائم ہوئے۔ دنیا اپنے یتیم خانوں کے لئے اسی پیغمبر اسلام کی احسان مند ہے جو خود بھی ایک یتیم تھے۔ کارلائل نے محمدؐ کے بارے میں لکھا ہے: ”یہ تمام خوبیاں، انسانیت کی فطری آواز، پارسائی اور مساوات، فطرت کے اس صحرائی فرزند کے دل میں جاگزیں ہونے کی وجہ سے، آشکارا تھیں۔ “ ایک مورخ نے کہا ہے کہ کسی عظیم انسان کا امتحان تین باتوں کی روشنی میں لینا چاہئے۔ ۔ کیا وہ اپنے معاصرین کی رائے میں حقیقی طور سے اونچے اخلاق کا حامل تھا؟ کیا وہ واقعہ اتنا عظیم تھا کہ اپنے زمانہ کے معیاروں سے بھی بلند ہو گیا ہو؟ کیا اس نے اپنے بعد آنے والی دنیا کے لئے کوئی مستقل میراث چھوڑی؟ اس فہرست کو مزید بڑھایا جاسکتا ہے، لیکن یہ بات اپنی جگہ واضح ہے کہ پیغمبر محمد ؐ عظمت کے اس معیار پر اعلیٰ ترین درجہ میں اترتے ہیں۔ آخری دو باتوں کے بارے میں پہلے ہی اشارہ کیا جا چکا ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا پیغمبر اسلام کو ان کے معاصرین نے حقیقتاً اونچے اخلاق کا حامل پایا؟ تاریخی دستاویزیں بتاتی ہیں کہ محمد کے تمام معاصرین، دوست ہوں یا دشمن، سبھی نے ان کی پاک خوبیوں، بے داغ امانت داری، عظیم اچھائیوں ، زندگی کے تمام شعبوں میں کامل اخلاص اور امانت کو تسلیم کیا ہے۔ یہاں تک کہ یہودی، اور وہ لوگ بھی جو کہ آپ کے پیغام کو نہ مانتے تھے، وہ بھی اپنے ذاتی اختلافات کے سلسلے میں آپ کی انتہائی غیر جانب داری کی وجہ سے آپ کو ثالث مانتے تھے۔ یہاں تک کہ جو آپ کے پیغام کو تسلیم نہیں کرتے تھے وہ بھی یہ کہنے پر مجبور تھے: ”اے محمدؐ ہم تم کو جھوٹا نہیں کہتے، بلکہ جس نے آپ کو کتاب اور پیغام دیا ہے اس کا انکار کرتے ہیں۔ “ ان کا خیال تھا کہ آپؐ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues