صاحب حق کی سختی کو برداشت کرنا برکت کا باعث ہے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴۱
سے کسی چیز کا سایہ ہے۔ انھوں نے آپ کے علاج کے لئے تشدد کو بھی اپنایا۔ لیکن ان میں جو عمدہ ترین لوگ تھے انھوں نے دیکھا کہ ایک نیا نور آپ پر نازل ہوا ہے اور انھوں نے اس نور کو پانے کے لئے پیش قدمی کی۔ پیغمبر اسلام کی تاریخ کا قابل ذکر واقعہ ہے کہ آپ کے قابل ترین رشتہ دار، چچازاد بھائی ، آپ کو قریب سے جاننے والے عزیز، دوست، سب پر آپ کے پیغام کا گہرا اثر ہوا اور سب آپ کے خدائی الہام کی صداقت سے متاثر ہوئے۔ اگر یہ شریف ذی عقل، صاحب علم اور آپ کی ذاتی زندگی کو قریب سے جاننے والے مرد اور عورت آپ کے اندر ذرہ برابر بھی حیلہ سازی، دھوکہ، دنیا داری یا ایمان کی کمی پاتے تو اخلاقی زندگی، روحانی بیداری اور اجتماعی اصلاح کے بارے میں محمد کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہوتا اور ساری عمارت چند لمحوں میں ٹوٹ کر زمین پر آ رہتی۔ اس کے برعکس ہم پاتے ہیں کہ آپ کے ماننے والے آپ پر اتنا زیادہ فدا تھے کہ خود اختیاری طور پر انھوں نے آپ کو اپنی زندگی کا قائد مان لیا تھا۔ انھوں نے آپ کی خاطر ظلم اور بھوک کا مقابلہ کیا۔ شدید ترین تشدد اور قبیلے سے اخراج کی وجہ سے انتہائی ذہنی کرب کے باوجود آپ کے لئے ان لوگوں کا ایمان، بھروسہ، اطاعت اور تعظیم برقرار رہی۔ اگر انھوں نے اپنے لیڈر میں ذرا سی بھی خامی دیکھی ہوتی تو کیا ایسا ہو سکتا تھا۔
اسلام کے ابتدائی مومنین کی تاریخ پڑھیے تو بے گناہ مردوں اور عورتوں پر ہونے والے ظلم سے ہر دل دہل اٹھے گا۔ معصوم عورت سمیہ کو نیزے مار مار کر ٹکڑے کر دیا گیا۔ خباب بن ارت کو جلتے ہوئے کوئلے پرٹنے پر مجبور کیا گیا۔ اور وہ بھی اس حال میں کہ بے رحم ظالم اپنا پیران کے سینے پر رکھے ہوئے تھا، تاکہ وہ حرکت نہ کرسکیں جس کی وجہ سے ان کی جلد کے اندر کی چربی پگھل گئی۔ خباب بن عدی کو ظالمانہ طور پر جسم کے ایک حصہ کو کاٹ کر اور ان کا زندہ گوشت تراش کر ہلاک کیا گیا اور جب اس ظلم کے درمیان ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ تمنا نہیں کرتے کہ خود محمد ان کی جگہ ہوتے جو کہ اس وقت اپنے گھر میں اپنے خاندان کے ساتھ تھے۔ اس حالت میں بھی مظلوم نے چیخ کر کہا کہ اگر محمد کو کانٹا بھی چبھے تو وہ خود کو اور اپنے پورے خاندان کو قربان کر دیں گے تاکہ آپ کو کانٹے کی تکلیف نہ ہو۔ اس قسم کے درجنوں دل سوز واقعات بیان کئے جا سکتے ہیں۔ لیکن یہ واقعات کیا ظاہر کرتے ہیں ؟ ایسا کیوں ہوا کہ اسلام کے ان مرد عورت جان شاروں نے نہ صرف اپنا ایمان محمدؐ کے حوالے کر دیا، بلکہ انھوں نے اپنے جسموں، دلوں اور روحوں کو بھی آپ پر نچھا ور کر دیا۔ کیا محمد کے قریب ترین معتقدین کا یہ مضبوط ایمان ویقین اس بات کی اعلیٰ ترین گواہی نہیں ہے کہ آپ اپنے پیغام کے بارے میں مخلص تھے اور اپنے کام میں انتہائی حد تک خود کو کھپائے ہوئے تھے۔
اور یہ لوگ معمولی حیثیت یا کمتر ذہنی سطح کے لوگ نہیں تھے۔ بالکل ابتدائی دور سے ہی، آپ کے گرد کاٹھ کن جمع ہوگیا تھا۔ یہ شریف ترین لوگ تھے جو کہ منصب، جاہ، ثروت اور ثقافت کے مالک تھے۔ ان میں آپ کے قریبی رشتہ دار بھی تھے جو کہ آپ کی زندگی کے داخلی اور خارجی پہلوؤں سے خوب واقف تھے۔ اور آپ کے بعد اسلام کے پہلے چار خلیفہ بھی اسی ابتدائی زمانہ کے مومنین میں سے تھے جنہوں نے عظیم ذمہ داریاں اٹھائیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کا کہنا ہے کہ "محمد تمام نبیوں اور دینی شخصیات میں سب سے زیادہ کامیاب ہیں۔ " (کے ایس راما کرشنا راؤ)
‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues