جب الفاظ کے ذخیرے ختم ہو جائیں گے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۹، صفحہ ۴۲
جب الفاظ کے ذخیرے ختم ہو جائیں گے
فرشتے جن کی جان اس حالت میں لیتے ہیں کہ وہ اپنے حق میں برا کر رہے ہیں، وہ اطاعت ظاہر کریں گے کہ ہم تو کچھ برائی نہ کرتے تھے۔ کیوں نہیں، اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے تھے۔ اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ ہمیشہ کے لئے۔ کیسا برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا۔ اور جو لوگ پرہیزگار ہیں ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا اتارا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نیک بات۔ جنھوں نے بھلائی کی ان کے لئے اس دنیا میں بھلائی ہے اور آخرت کا گھر اور زیادہ بہتر ہے۔ کیا خوب گھر ہے پرہیز گاروں کا۔ باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے جن میں وہ جائیں گے ۔ ان باغوں کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ ان کے واسطے وہاں ہے جو وہ چاہیں اس طرح اللہ بدلا دیتا ہے پرہیزگاروں کو جن کی روح فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ پاکیزہ ہیں۔ فرشتے ان سے کہتے ہیں : تم پر سلامتی ہو، تم داخل ہو جاؤ بہشت میں، بدلہ اس کا جو تم کرتے تھے (نحل ۳۲- ۳۸)
انسان دیکھنے میں تو سب بظاہر ایک ہی قسم کے دکھائی دیتے ہیں۔ وہی جسم اور ہاتھ پاؤں جو ایک میں ہے وہی دوسرے میں بھی ہے۔ مگر ظاہری جسم کے اندر جو چھپی ہوئی روح ہے وہ دو انسانوں میں اتنی مختلف ہوتی ہے کہ ایک شخص جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے اور دوسرا جنت کا۔
ایک وہ انسان ہے جس کے اندر طیب اور متقی روح ہے۔ اس کے کانوں میں حق کی آواز پڑتی ہے تو وہ فوراً اس کو پہچان لیتا ہے۔ وہ آواز اگرچہ انسانی لفظوں میں ہوتی ہے مگر اس میں شامل ربانی گونج کو وہ سن لیتا ہے۔ وہ اس کو اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنا لیتا ہے۔ اپنے آپ کو پوری طرح اس کے رنگ میں رنگ لیتا ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کے اندر ظالم اور متکبر روح ہے۔ اس کے سامنے حق کی آواز آتی ہے تو وہ بالکل مختلف رد عمل کا اظہار کرتا ہے، اس کی متکبرانہ نفسیات کسی دوسرے کے آگے جھکنے پر راضی نہیں ہوتی وہ اپنی ظالمانہ زندگی کی اصلاح کرنا نہیں چاہتا اس لئے وہ حق کی آواز کو طرح طرح سے مشتبہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ دنیا کی زندگی میں اس بات کا فیصلہ نہیں ہو پاتا کہ دونوں میں سے کون حق پر ہے اور کون ناحق پر۔ حق کا داعی اپنی بات کو لفظوں میں کہتا ہے اور دوسرا شخص نہایت آسانی سے ایسے الفاظ پالتیتا ہے جن کو بول کر وہ حق کے داعی کی حیثیت کو مشتبہ ظاہر کر سکے۔ مگر موت کے آتے ہی اچانک یہ صورت حال ختم ہو جاتی ہے۔ وہ ظالم اور متکبر لوگ جن کے الفاظ کے ذخیرے موت سے پہلے ختم نہ ہوتے تھے ، یہ موت کے فرشتوں کو دیکھتے ہی سارے پچھلے الفاظ بھول جاتے ہیں اور فوراً اطاعت کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ مگر یہ اطاعت ان کے کام نہیں آتی۔ وہ جہنم میں دھکیل دئے جاتے ہیں تاکہ وہاں ہمیشہ جلتے رہیں۔ اس کے برعکس طیب اور متقی انسانوں کے لئے موت کے فرشتوں کا آنا اس بات کی خدائی تصدیق بن جاتا ہے کہ جس چیز کو حق سمجھ کر وہ اس کے لئے اپنے کو ہلکان کر رہے تھے وہ فی الواقع حق تھی۔ اللہ ان کی زندگی کو قبول کر لیتا ہے اور ان کے لئے جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں تاکہ وہ اس میں ابدی عیش کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1979 All issues