Al-Risala · February 1979 · page 10

کیسی عجیب خیرامت

الرسالہ، فروری ۱۹۷۹، صفحہ ۱۰

کیسی عجیب خیرامت

مسلمان جب تک معاشی اور تعلیمی میدانوں کے ساتھ وہی وہ آسمانی گروہ ہو جس سے دنیا اپنی اصلاح و ترقی کی امید رکھے ۔

ہماری ملی مشکلات کا سبب دراصل ہماری اپنی میں برادران وطن کے برابر نہ ہو جائیں ان کو مظلوم اور محروم طبقہ قرار دے کر ان کو پسماندہ فرقوں کی طرح مراعات اور سہولتیں دی جائیں،، ۔ یہ وہ مطالبہ ہے جو پچھلے چند سالوں سے تمام مسلم جماعتوں کی طرف سے حکومت سے کیا جار ہا ہے۔ اس قسم کا مطالبہ کرنے والے لیڈر اگر فی الواقع اپنے مطالبہ میں سچے ہیں تو اس اصول کو سب سے پہلے انھیں خود اپنے درمیان جاری کرنا چاہئے۔ ہر لیڈر جو اس حال میں ہے کہ اس کے گرد و پیش (خاندان کے اندر یا باہر) کچھ لوگ اس کے مقابلہ میں معاشی حیثیت سے پچھڑے ہوئے ہیں ، اس کو چاہئے کہ اپنی آمدنی کا ایک حصّہ اس وقت تک ان لوگوں کے لئے وقف رکھے جب تک یہ پسماندہ لوگ معاشی حیثیت سے اس کے برابر نہ ہو جائیں۔ اس قسم کا مطالبہ کرنے والے قائدین اگر خود اپنے درمیان اس اصول کو جاری کرنے کے لئے تیار نہ ہوں تو وہ کیوں کر امید رکھتے ہیں کہ اپنی حریف قوم سے وہ اس کو منوانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

عجیب بات ہے کہ اس قسم کا مطالبہ کرنے والے قائدین اسی کے ساتھ مسلمانوں کے خیرامت، ہونے کا ذکر بھی زور شور کے ساتھ کرتے ہیں اور فخر کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ مسلمان کا منصب یہ ہے کہ وہ سارے عالم کے نظام کو درست کرے اور اس کو خیر و صلاح سے بھر دے۔ کوتاہیاں ہیں۔ ہم جدید اقتصادیات میں اپنی جڑیں قائم نہ کرسکے۔ ہم وقت کی تعلیم میں پیچھے ہوگئے ۔ بے معنی اندرونی نزاعات نے ہم کو اتحاد سے محروم کر رکھا ہے۔ ہمارے سامنے کوئی ایسا قابلِ عمل مشن نہیں جس میں ہمارے افراد اپنی ذہنی اور عملی قوتوں کا نکاس پاسکیں۔ ہمارے قومی کردار کا حال یہ ہے کہ جب بھی کسی معاملہ میں ہمارے صبر، تحمل ، محنت دیانت داری ، خیر خواہی، انصاف، بلند حوصلگی اور وسعتِ قلبی کا امتحان ہو تو اصاغر سے لے کر اکابر تک سب ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ یہ داخلی کمزوریاں ہی ہمارا اصل مسئلہ ہیں اور ان کی اصلاح کے لئے خاموش جدوجہد کرنے کا نام کام ہے۔ مگر ہمارے کسی رہنما کو اس قسم کی تعمیری جدوجہد میں لگنے سے دل چسپی نہیں، البتہ طرح طرح کی بوئیاں بول کر وہ لوگوں کے ذہنوں کو الجھائے ہوئے ہیں۔ کوئی یہ کہتا ہوا سنائی دیتا ہے کہ ہم کو حفاظتِ خود اختیاری کے تحت اپنا مسئلہ اپنے ہاتھ میں لینا چاہئے۔ کسی نے اسلام کے کچھ سیاسی قصائد یاد کر لئے ہیں اور وہ بس انھیں کو دہراتا رہتا ہے۔ کوئی جابجا تقریری نمائش گاہیں کھڑی کرنے میں جگمگاتا ہوا مستقبل دیکھ رہا ہے۔ کوئی شتر مرغ کی طرح خیالی پناہ گاہیں بنانے میں مصروف ہے۔ کوئی احتجاج اور مطالبات کی رٹ لگائے رکھنے کو کام سمجھتا ہے مگر اس قسم کی بات اور فنکاری اور اور کیسی عجیب ہوگی وہ خیرامت جس کا حال ایک طرف یہ ہو کہ اپنے کو " مظلوم اور محروم " طبقہ قرار دے کر دنیا والوں سے رعایتوں کی خیرات مانگ رہی ہو۔ اور اسی ہے مابعدالطبیعیات کی بربادیوں کو دائمی بنانے کے ہم معنی ہے۔ یہ محض کچھ الفاظ ہیں اور جو مسئلہ عمل کی کمی سے پیدا ہوا ہو اس کو الفاظ بول کر حل نہیں کیا جا سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1979 All issues

Printed page