سیب کا سبق
الرسالہ، فروری ۱۹۷۹، صفحہ ۴۴
اس کا اخبار وہاں بھی پہنچ دیتا جہاں وہ خود نہیں پہنچ سکتا تھا روسی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ کا ایک چھوٹا سا واقعہ ہے مگر اس کے اندر بہت بڑی نصیحت چھپی ہوئی ہے۔
یہ اس وقت کا ذکر ہے جب روس میں اکتوبر ۱۹۱۷ء کا انقلاب نہیں آیا تھا روس میں بالشویکوں (کمیونسٹوں کا قدیم نام) کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنے کے لیے شہنشاہ روس (زار) نے بالشویک پارٹی کو خلاف قانون قرار دے دیا تھا۔ اور تمام بڑے بڑے لیڈروں کے نام گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے تھے۔
کچھ لیڈر گرفتار ہوئے، کچھ بچ کر جنگلوں اور غاروں میں روپوش ہوگئے۔ انھیں روپوش ہونیوالوں میں بالشویک پارٹی کا عظیم لیڈر لینن بھی تھا۔ لینن نے جنگلوں اور غاروں کے ایک دور افتادہ علاقہ کو اپنا مسکن بنایا اور وہاں روپوش ہوکر اخبار نکالنا شروع کر دیا۔ یہ اخبار دستی روس میں چھاپ کر دستی طور پر پریس کے شہروں میں خفیہ طور پر پہنچادیا جاتا تھا۔ ایک روز کا واقعہ ہے۔ ایک شخص ایک روسی شہر میں پنساری کے یہاں کچھ سامان خریدنے گیا جب وہ سامان خرید کر گھر لایا اور پڑیا کھولی تو اچانک اس کی نظر پڑیا والے کا غذ کے چھپے ہوئے الفاظ پر پڑی۔ یہ ایک اخبار کا پھٹا ہوا صفحہ تھا جس میں آتشیں الفاظ اور گرما گرم عنوان کے ساتھ ایک عبارت چھپی ہوئی تھی۔ ردی کے اس ٹکڑے پر چھپی ہوئی عبارت پڑھ کر اس آدمی کے اندر عجیب کیفیت پیدا ہوئی، وہ بار بار اس کو پڑھتا رہا اور اس سے اپنے دل کو گرماتا رہا یہاں تک کہ اسے خیال ہوا کہ معلوم کرے کہ اس عبارت کا مصنف کون ہے اور یہ کس اخبار کا ٹکڑا ہے جو پنساری کی معرفت اسے ملا ہے۔
وہ تلاش میں لگ گیا۔ جو بندہ یا بندہ بالآخر اسے معلوم ہوا کہ یہ ردی کا ٹکڑا لینن کے اس اخبار کا پھٹا ہوا صفحہ ہے جو وہ روپوش ہو کر نکال رہا ہے۔ اب اس کا اشتیاق اور بڑھا اور وہ تلاش کرتا ہوا اس غار میں پہنچ گیا جہاں چھپ کر لینن اخبار نکالا کرتا تھا۔ اس کے بعد سے آخر تک وہ لینن کا ساتھی بنا رہا۔ اس طرح کے کتنے لوگ ہیں جن کو لینن نے صرف اپنے اخبار سے فتح کیا لینن زار کی پولیس سے بچنے کے لیے غار کے اندر روپوش تھا مگر اپنے اخبار کی بدولت وہ ہر شہر میں پہنچا ہوا تھا۔ حتیٰ کہ بازار میں پنساری کی دکان بھی اس کے حق میں پروپیگنڈے کا مرکز بنی ہوئی تھی اس کا اخبار وہاں بھی پہنچ رہا تھا، جہاں وہ خود نہیں پہنچ سکتا تھا۔ یہ ہے موجودہ زمانے میں پریس کی قوت۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ پچاس برس پہلے باشعور لوگوں نے اس سے جو کام لیا تھا ابھی تک ہم وہاں بھی نہیں پہنچے ہیں اور آج کی زندہ قومیں پریس سے جو کام لے رہی ہیں اس کی تو عام مسلمانوں کو خبر بھی نہیں حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں دوسری قومیں ہم سے اتنا آگے ہیں کہ ہم ان کے پیچھے بھی نہیں۔ پیچھے ہونے کا مطلب تو یہ ہے کہ ہم بھی کہیں ہیں۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ ہم ان کی نسبت سے کہیں نہیں ہیں۔
CS CamScanner
‹ Previous page Next page › Contents of February 1979 All issues