Al-Risala · February 1979 · page 25

سیب کا سبق

الرسالہ، فروری ۱۹۷۹، صفحہ ۲۵

جو بات ایک شخص اپنی ذات کے بارے میں جانتا ہے وہی بات قوم کے بارے میں بھول جاتا ہے طرابلس کے متحف (میوزیم) میں ایک بکری رکھی ہوئی ہے جس کی گردن کے اوپر دوسری ہے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے کہا، اگر ایک شخص اس کو دیکھ کر آئے اور آپ اس سے پوچھیں کہ سب سے عجیب چیز متحف میں تم نے کیا دیکھی۔ تو شاید وہ جواب دے گا کہ ”دوسروں والی بکری“۔ مگر میں آپ سے کہتا ہوں کہ میں نے سب سے عجیب چیز جو دنیا میں دیکھی وہ دوسروں والے انسان میں۔ طرابلس کے متحف میں تو صرف ایک ایسی بکری ہے جس کے دوسری ہے۔ مگر میں نے اپنی ساری عمر میں جتنے انسان دیکھے سب دوسرے رکھنے والے انسان تھے۔

میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں، اس کو مثال سے سمجھیے۔ آپ کا ایک لڑکا ہے۔ آپ اس کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کیا کریں گے۔ آپ اس کو اسکول میں داخل کریں گے۔ بیالوجی کے ساتھ ہائی اسکول کرائیں گے۔ پھر ٹی، ایس، سی کرائیں گے۔ پھر اس کو ایم بی بی ایس کے کورس میں داخل کریں گے۔ پھر آپ کی کوشش ہوگی کہ اس کو ایف آر سی ایس کرنے کے لئے لندن بھیجیں۔ ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد ہی آپ یہ امید کر سکتے ہیں کہ وہ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے دنیا میں اپنی جگہ بنائے۔ آپ میں سے کوئی شخص ایسا وہیں کرے گا کہ وہ اپنے لڑکے کو یوں ہی چھوڑ دے کہ وہ کھیلتا کودتا رہے۔ اس کے بعد جب نہ ۲۵ برس کا ہو جائے تو اس کا باپ اس کو ڈاکٹر بنانے کے حق میں پر جوش تقریریں شروع کر دے، وہ حکومت کو کہے کہ میرے لڑکے کو اسپتال میں سرجن مقرر کرو۔ یا یہ کہ اس کو ”پس ماندہ“ قرار دے کر ڈگری کے بغیر ڈاکٹر تسلیم کرو۔ آپ میں سے ہر شخص خوب جانتا ہے کہ ڈاکٹر بننے کے لئے ضروری ہے کہ اس کا لڑکا تعلیمی اور تربیتی کورس کو پورا کرے۔ محض مطالبہ کرنے سے کوئی شخص کبھی ڈاکٹر نہیں بن سکتا۔ یہ دنیا استحقاق کی دنیا ہے، مطالبات کی دنیا نہیں۔

مگر یہی بات جو بہ آدمی اپنے ذاتی معاملے میں جانتا ہے، قومی معاملہ میں وہ اس سے بے خبر ہے، جہاں کسی شخص کو قوم کا درد اٹھا اور وہ اصلاح کے میدان میں کھڑا ہوا، فوراً ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایک اور سرد پیداہو گیا ہے جو بالکل دوسرے ڈھنگ سے سوچتا ہے۔ اب رہ ”تیاری“ کے بجائے ”مطالبہ“ کو کامیابی کا راز سمجھنے لگتا ہے۔ مفروضہ حریف کی خلاف پر جوش تقریریں کرنا، تار اور میمورنڈم بھیجنا، مطالبات کے ریزولوشن پاس کرنا، بین اقوامی اداروں میں اپنا کیس لے جانے کی اسکیم میں بنانا، یہی اس کی تمام سرگرمیوں کا خلاصہ ہوتا ہے۔ وہی شخص جو اپنی اولاد کے بارے میں جانتا تھا کہ کامیابی صرف اس طرح ملتی ہے کہ پہلے اس کے لئے صلاحیت اور استعداد پیدا کی جائے، وہی شخص قوم کی اولاد کے بارے میں اپنی ساری سرگرمیوں کا نقشہ اس طرح بناتا ہے گویا تقریر اور مطالبات ساری کامیابیوں کا راز ہیں۔ یہ لا حاصل جد و جہد بالاخر جب ناکام ہو جاتی ہے تو وہ ہمت نہیں ہارتا۔ اب وہ اپنی مطالبا تی مہم کو جاری رکھنے کے لئے نیا لفظ ڈھونڈ لیتا ہے: ”ہم کو پس ماندہ قرار دے کر استحقاق کے بغیر ہی تمام مناسب پر بیٹھا دو۔ ایسے لوگوں کو اس کے سوا کیا کہا جائے کہ وہ دوسرے رکھنے والے لوگ ہیں۔

اس مزاق کے معاملہ میں کسی مسلم قوم کی کوئی خصوصیت نہیں۔ ہر علاقہ کے مسلمان اسی دُہری ذہنیت کا شکار ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کسی کا ” دوسرا سر“ ایک کے خلاف کام کر رہا ہے، کسی کا دوسرے کے خلاف۔ ایسے لوگ ممکن ہے وقتی لیڈری حاصل کر لیں گران کے اس عمل کی کوئی قیمت نہ تاریخ کے نزدیک ہے اور نہ خدا کے نزدیک۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1979 All issues

Printed page