سیب کا سبق
الرسالہ، فروری ۱۹۷۹، صفحہ ۴۶
حافظ حامد حسن علوی (۱۹۵۹ - ۱۸۶۲) انلم گو کے ایک بزرگ تھے۔ نہایت ذہین معاملہ فہم۔ انکے عزیزوں میں ایک شخص اکثر گھر کے اندر عورتوں اور بچوں میں بیٹھا کرتے تھے۔ حافظ صاحب مرحوم نے جب کئی بار ان کو اس طرح دیکھا تو ایک روز تبصرہ فرمایا: "عورتوں میں مت بیٹھو، اس سے عقل کم ہو جاتی ہے"۔ یہ مقولہ حال میں مجھے اس وقت یاد آیا جب میں نے ایک نوجوان کو دیکھا۔ وہ اس سے پہلے ایک معمولی ملازمت میں تھے۔ پچھلے دو برس سے انھوں نے ملازمت چھوڑ کر ایک کاروبار کر لیا ہے۔ جب میں ان سے ملا تو مجھے محسوس ہوا کہ ان کے کل اور آج میں بہت بڑا فرق ہو چکا ہے۔ ملازمت کے زمانے میں وہ دبے اور کھینچے ہوئے شخص دکھائی دیتے تھے۔ بہت کم کوئی سمجھ داری کا جملہ ان سے سننے میں آتا تھا۔ مگر اب جو میں نے دیکھا تو ان کے اندر ایک اعتماد ابِل رہا تھا۔ اور بات بات میں سمجھ داری کی باتیں ان کی زبان سے نکل رہی تھیں۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ آدمی جیسی زندگی گزارتا ہے، اسی کے لحاظ سے اس کی عقل کی تربیت بھی ہوتی ہے۔ جو شخص عورتوں اور بچوں میں اپنا وقت گزارے ظاہر ہے کہ اس کی گفتگو کے موضوعات بالکل معمولی ہونگے۔ گھریلو قصے، فیشن، ہنسی مذاق، کھانا کپڑا اور وغیرہ۔ اس قسم کی باتوں میں مشغول رہنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کا ذہن اونچے اور گہرے مسائل میں غور و فکر کی تربیت نہیں پا سکے گا۔ اسی طرح ملازم کی زندگی ایک لگی بندھی زندگی ہوتی ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح مہینہ پورا کرلے تو اس کو مقررہ تنخواہ بہر حال مل جائے گی۔ اس زندگی کی وجہ سوچ کر زندگی گذاریے سے اس کے اندر ایک قسم کا ذہنی ٹھہراؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس تجارت ایک ایسا کام ہے جس میں ہر وقت آدمی کی محنت اور صلاحیت کا امتحان ہوتا رہتا ہے ۔ ہر دن اس کو نئے نئے حالات سے نمٹنا پڑتا ہے یہ چیز حالات سے لڑنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے، اس کی عقل کو جلا دیتی ہے اس کو بار بار زندگی کی خوراک دیتی رہتی ہے۔
آدمی کو چاہیے کہ اپنی زندگی کا مشغلہ طے کرتے وقت یہ ضرور سوچے کہ وہ اس کی زندگی کی تربیت کس طرح کرے گا۔ وہی مشغلہ ایک انسان کے لیے صحیح مشغلہ ہے جس میں اس کی چھپی ہوئی صلاحیتیں ابھریں، اس کے ذہن کا افق وسیع ہو، اس کے اندر خود اعتمادی کی پرورش ہو سکے، وہ دنیا میں وہ تمام رزق پاسکے جو خدا نے یہاں اس کے لیے مہیا کر رکھا ہے۔
انسانی ذہن حیران کن حد تک بے پناہ صلاحیتیں رکھتا ہے۔ اگر ہم درست مشغلہ اختیار کریں تو ہمارے ذہن کی ترقی ہماری زندگی کی آخری سانس تک جاری رہیگی، اس کے امکانات کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اس کے برعکس اگر ہم اس کو کسی محدود یا ناقص مشغلہ میں بند کر دیں تو وہ ٹھہر کر رہ جائے گا ۔ پانی ایک گڑھے میں ہو تو وہ گھٹ کر رہ جاتا ہے، مگر وہی پانی جب دریا میں رواں ہوتا ہے تو سیلاب بن جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1979 All issues