گرھن اللہ کی یاد کے لئے
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۳
اور حرارت سے محروم کر دے کوئی ہم کو روشنی اور حرارت دینے والا یں ہیں۔
"گرہن" کا یہ معاملہ صرف چاند اور سورج کے ساتھ مخصوص یں، اس قسم کے واقعات اللہ کی دوسری نعمتوں کے ساتھ بھی مختلف صورتوں میں پیش آتے ہیں۔ صحت کے ساتھ بیماری گویا جسم کا گرہن ہے اور اچھے موسم کے ساتھ خراب موسم گویا فضا کا گرہن۔ اس طرح ایک ملی ہوئی نعمت کو تھوڑی دیر کے لئے روک کر اس کے نعمت نہ ہونے کا احساس دلایا جاتا ہے تاوہ آدمی کے اندر شکر کا جذبہ ابھرے اور وہ یہ سوچے کہ اگر اللہ اس کو مستقل طور پر چھین لے تو آدمی کا کیا حال ہو گا ۔ اللہ کو اپنے بندوں سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ اپنے رب سے ڈریں۔ انسان کو ڈرنے والا بنانے کے لئے جو اہتمام کئے گئے ہیں ان میں سے ایک قسم کا اہتمام وہ ہے جس کو "گرہن" کہا جاتا ہے۔
زمین مسلسل حرکت میں ہے۔ اس کے علاوہ زمین کے گولے کا اندرونی حصہ نہایت گرم پگھلے ہوئے مادہ کی صورت میں ہے جو ہر وقت کھولتے ہوئے پانی کی طرح جوش میں رہتا ہے، اس کے باوجود ہمارے قدموں کے نیچے زمین کی سطح بالکل ٹھہری ہوئی حالت میں ہے، یہ ہمارے لئے بہت بڑی نعمت ہے۔ مگر عام حالات میں ہم کو اس کے نعمت نہ ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ اس لئے کبھی کبھی بھونچال کے ذریعہ زمین کی اوپری سطح کو ہلا دیا جاتا ہے تاکہ آدمی یہ جانے کہ خدا نے اس کے لئے تباہ کن لاوا کو کس طرح بند کر رکھا ہے۔ اگر وہ اس کو آزاد کر دے تو انسان کا کیا حال ہو۔ اسی طرح بارش ایک عجیب و غریب نعمت ہے۔ سورج کے اثر سے پانی کے بخارات کا اٹھ کر اوپر جانا ان کا بدلیوں کی صورت میں جمع ہونا اور پھر ہوا کے ذریعہ جگہ جگہ بارانِ رحمت بن کر نازل ہونا اور پھر زمین کو سرسبز و شاداب کرنا، یہ سب رحمتِ خداوندی کے عجیب و غریب کرشمے ہیں جو کہ مستقل طور پر اپنے بندوں کے لئے کرتا رہتا ہے۔ مگر خود بخود ملتے رہنے کی وجہ سے آدمی اس نعمت کی قدر بھول جاتا ہے اس لئے کبھی کبھی زمین پر خشک سالی پیدا کی جاتی ہے تاکہ آدمی کا شعور جاگے اور وہ خدا کی نعمت کی قدر کر سکے ، ہوا کی عجیب و غریب نعمت ہے ، ہوا ہر آن ہم کو تازہ آکسیجن پہنچا رہی ہے۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے خدائی پنکھے کی طرح ہم کو فرحت بخشتے رہتے ہیں۔ ہوا بارش کے نظام کو درست کرتی ہے، ہوا کے بے شمار فائدے ہیں۔ مگر جس طرح وہ ہماری آنکھوں کو نظر نہیں آتی اسی طرح اس کی اہمیت بھی ہمارے شعور سے اوجھل ہو جاتی ہے، اس لئے کبھی کبھی ہوا کو طوفان بنا دیا جاتا ہے تاکہ آدمی یہ جانے کہ ہوا کی صورت میں اللہ نے اس کی زندگی کے لئے کیسا حیران کن انتظام کر رکھا ہے۔ اسی طرح ہر چیز کا ایک "گرہن" ہے اور وہ اس لئے آتا ہے کہ آدمی کے اندر نعمت کے احساس کو جگائے۔ قرآن (واقعہ) میں ارشاد ہوا ہے : " اس چیز کو دیکھو جس کو تم بوتے ہو ، تم اس سے کھیتی اگاتے ہو یا ہم اس کو کھیتی بنانے والے، اگر ہم چاہیں تو اس کو بھس بنا کر رکھ دیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ کہ ہم تو قرضدار ہو گئے، بلکہ ہم تو بالکل محروم ہو گئے۔ پانی کو دیکھو جس کو تم پیتے ہو۔ کیا تم نے اس کو بادل سے اتارا ہے یا ہم ہیں اتارنے والے، اگر ہم چاہیں تو اس کو کھاری کر دیں پھر کیوں تم شکر نہیں کرتے ۔ آگ کو دیکھو جس کو تم جلاتے ہو۔ کیا تم نے اس کا درخت پیدا کیا ہے یا ہم ہیں اس کے پیدا کرنے والے ۔ ہم ہی اس کو بنایا ہے یاد دلانے کے لئے اور تمھارے برتنے کے لئے۔ پس اللہ کے نام کی پاکی بیان کرو جو سب سے بڑا ہے۔ " ہماری پوری زندگی ایسی خدائی نعمتوں کے اوپر زہر ہے جو کسی بھی لمحہ واپس لی جاسکتی ہے۔ اس لئے آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے خالق و مالک کا شکر گزار رہے تاکہ وہ اپنی نعمتوں سے کبھی اس کو محروم نہ کرے۔ یہ شکر گزاری ہی آدمی کو خدا کی نعمتوں کا مستحق بناتی ہے، موجودہ دنیا میں بھی اور موت کے بعد آنے والی آخرت میں بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues