گرھن اللہ کی یاد کے لئے
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۴
بات بھی تشریح و تعبیر کے فرق سے ایک درجن شکلیں اختیار کرلے گی۔ لوگوں کو ایک مستفقہ رائے پر لانے کی ہر کوشش ناکام ثابت ہوگی۔ اب اسی کمرہ میں حکومت وقت کا وزیر مالیات داخل ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں مختلف رنگ کی بہت سی گولیاں ہیں۔ ان میں سے ایک گولی سفید ہے۔ وہ اعلان کرتا ہے کہ اس سفید گولی پر ایک ملین ڈالر کا انعام ہے۔ میں اس کو اچھال کر گراؤں گا۔ جو شخص سفید گولی پالے گا اس کو ایک ملین ڈالر نقد انعام دیا جائے گا۔ اس کے بعد جب وہ گولیوں کو میز پر بکھیرے گا تو تمام لوگوں کی توجہ "سفید گولی" پر لگ جائے گی۔ دیکھنے میں اگرچہ وہاں بہت سی گولیاں ہوں گی مگر حاضرین میں سے کوئی نہ ہوگا جو سفید گولی کے سوا کسی اور گولی کی طرف متوجہ ہو۔ اب فرض کیجیے کہ اسی کمرہ میں سرا شخص داخل ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک بکس ہے۔ وہ اپنا بکس میز پر رکھ کر اس کو کھولتا ہے اور اس کے اندر سے ایک کالا سانپ نکل کر میز پر چلنے لگتا ہے۔ اس کے بعد کمرے کے حاضرین کا جو حال ہوگا اس کا تصور ہر شخص کر سکتا ہے۔ دوبارہ ہر آدمی کی توجہ "سانپ" کے اوپر جم جائے گی۔ ہر آدمی صرف ایک چیز سوچے گا : بھاگ کر اپنے کو سانپ کی زد سے بچائے ۔ شدت طلب یا شدت خوف رایوں کے فرق کو ختم کر دیتا ہے۔ ایسے وقت میں ہر آدمی اسی ایک چیز کا طالب بن جاتا ہے جو سب سے زیادہ قابل طلب ہے اور ہر آدمی اسی ایک چیز سے ڈرنے لگتا ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے کے قابل ہے۔ ہر آدمی کی توجہ اسی ایک چیز پر لگ جاتی ہے جس پر دوسرے آدمی کی توجہ لگی ہوئی ہے۔
اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ دین کے معاملہ میں آج اتنا زیادہ اختلاف کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دین آج لوگوں کے لئے بس ایک سمجھنے اور بولنے کی چیز ہے، وہ ان کے لئے خوف اور محبت کی بنیاد نہیں بنا ہے۔ اگر وہ حقیقی معنوں میں خوف محبت کی بنیاد بن جائے تو اچانک سارا اختلاف ختم ہو جائے گا۔ لوگ جنت اور جہنم کا نام لیتے ہیں مگر جنت لوگوں کی ضرورت نہیں بنی اور جہنم لوگوں کا مسئلہ نہیں بنی۔ یہی اختلاف کا سب سے بڑا سبب ہے۔ گویا میز کی سطح پر ایک دینی مباحثہ جاری ہے اور ہر آدمی اس کے گرد بیٹھا ہوا اپنی قابلیت کے جوہر دکھا رہا ہے۔ اگر فی الواقع ایسا ہو کہ جنت لوگوں کی طلب شدید بن جائے اور جہنم سے لوگوں پر خوف شدید طاری ہو جائے تو دفعہ سب کی رائیں سمٹ کر ایک نقطہ پر جمع ہو جائیں گی۔ سب ایک ہی انعام،، کے طالب بن جائیں گے اور سب ایک ہی دو خطرہ، کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھنے لگیں گے۔ یہ شدت طلب اور یہ شدت خوف رایوں کے تعدد کو ختم کر دے گا۔ لوگ سارے اختلافات کو بھول کر اپنی توجہ ایک ہی چیز پر مرکوز کر دیں گے۔ سارے مسلمان مل کر اتحاد کی چٹان بن جائیں گے ۔ وہ دین جو ۳ ، دینوں" میں تقسیم ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے وہ صرف ایک دین کی صورت میں دکھائی دینے لگے گا۔ تمام نیکیوں کی بنیاد یہ ہے کہ آدمی سنجیدہ (cere) ہو۔ اور شدت طلب اور شدت خوف کے سوا کوئی چیز نہیں جو آدمی کو حقیقی معنوں میں سنجیدہ بنا سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues