Al-Risala · March 1980 · page 6

ہار میں جیت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۶

ہار میں جیت

لاؤ زے قدیم چین کا ایک مشہور فلسفی ہے۔ اس کا زمانہ چھٹی صدی قبل مسیح ہے۔ اس کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے "سچائی کا راستہ"۔ اس کتاب میں اس نے زندگی کے بڑے گہرے راز بتائے ہیں، لاؤ زے کا ایک قول یہ ہے: جس کو ہارنا آجائے اس کو کوئی ہرانہیں سکتا بظاہر یہ بات عجیب سی لگتی ہے کیونکہ عام لوگ تو جیت اس کو سمجھتے ہیں کہ آدمی کبھی ہار نہ مانے۔ یہاں تک کہ مقابلہ میں اگر وہ ہار جائے تب بھی یہی کہتا رہے کہ لوگوں نے دھاندلی کردی۔ ور نہ جیت لازماً ہوری ہوتی۔ مگر لاؤ زے نے جو بات کہی ہے وہ زندگی کا بڑا گہرا راز ہے اور کامیابی کا سب سے زیادہ یقینی راستہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص ہار کو مان لینے کا حوصلہ پیدا کرلے وہ اپنی جیت کو یقینی بنا لیتا ہے۔ ایک شخص جب ہارتا ہے تو وہ در اصل اپنی کمزوری کی قیمت ادا کرتا ہے، خواہ وہ کمزوری طاقت کے اعتبار سے ہو یا تدبیر کے اعتبار سے۔ ایک ظالم اگر اپنے ظالمانہ منصوبہ میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ کسی پہلو سے اپنے حریف کے مقابلہ میں زیادہ بہتر پوزیشن میں تھا۔ جب ایسا ہے تو بہترین عقلمندی یہ ہے کہ آدمی اپنی ہار کو تسلیم کرے اور اس کے بعد اپنی تمام توجہ اپنی کمی کی تلافی میں لگا دے۔ ہار مان کر وہ زیادہ بہتر طور پر اس مقصد کو حاصل کر سکتا ہے جو ہار کا انکار کر کے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ایک شخص نے زمین خریدی اور اپنا نیا مکان بنانا شروع کیا۔ جب نیو کی کھدائی شروع ہوئی تو پڑوس کے آدمی نے ایک دیوار پر جھگڑا شروع کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ تمہاری نیو ایک فٹ آگے ہے۔ اس کو ایک فٹ پیچھے کرو، ورنہ ہم نہ نیو کھودنے دیں گے اور نہ گھر بنانے دیں گے۔ گھر والے نے سمجھانے کی کوشش کی۔ مگر وہ نہ مانا اور تیز ہوتا چلا گیا۔ آدمی نے دیکھا کہ اس کا پڑوسی لڑائی پر تلا ہوا ہے۔ وہ کسی حال میں جھکنے پر راضی نہیں ہے۔ اب اس نے سوچا کہ اگر میں اصرار کرتا ہوں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لاٹھی ڈنڈے تک نوبت آئے گی۔ سرپھوٹیں گے مقدمہ بازی ہوگی۔ بے کارمدوں میں روپیہ خرچ ہوگا۔ اور ہو سکتا ہے کہ اس لڑائی جھگڑے میں گھر بننے کا کام بھی نامعلوم مدت تک رک جائے اور اسی کے ساتھ میرا جو کاروبار ہے وہ بھی خراب ہو۔ اس نے ٹھنڈے دل سے سوچنے کے بعد لاؤ زے کا طریقہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے ہار مان لی۔ اس نے اپنے مزدوروں کو حکم دیا کہ ایک فٹ پیچھے ہٹ کر نیو کھود دو۔ اس نے ایک فٹ چھوڑ کر بقیہ زمین پر اپنا گھر بنایا اور اس کے بعد اپنے کاروبار میں لگ گیا۔

یہ طریق کار اس کے لئے بہت کار آمد ثابت ہوا۔ کچھ دنوں بعد اس نے اتنا کمالیا کہ اپنے مکان کے اوپر ایک اور منزل بنالی۔ دو منزلہ ہو کر اس کا مکان کافی کشادہ ہوگیا۔ اس کے اس تعمیری طریقہ کا اثر اس کے بچوں پر پڑا۔ ان میں لڑائی جھگڑے کا ذہن ختم ہو گیا۔ سب تعمیری انداز میں سوچنے لگے۔ سب بچے خاموشی کے ساتھ کام کرنے کے راستہ پر لگ گئے۔ کچھ دنوں بعد باپ بیٹوں نے مل کر اتنا کافی پیسہ کمالیا کہ انھوں نے اپنے مکان سے ملا ہوا ایک پرانا بڑا مکان خرید لیا۔ اس کو گرا کر دو بارہ تعمیرات کرائیں اور کافی بڑا مکان اپنے لئے بنایا ۔ آدمی نے ایک فٹ زمین ہاری تھی ، اس کو ہزاروں فٹ زمین اس کے بدلہ میں حاصل ہو گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues

Printed page