نصیحت پکڑنے والے کے لئے ایک آیت کافی ہے
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۵
نصیحت پکڑنے والے کے لئے ایک آیت کافی ہے
صعصعہ بن معاویہ مشہور شاعر فرزدق کے چچا تھے ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ نے ان کو سورہ زلزال سنائی۔ یہاں تک کہ آپ اس آیت پر پہنچے : فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَّہُ ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَّہ (جس نے ایک ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا ، جس نے ایک ذرہ برابر برائی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا) حضرت صعصعہ نے اس کو سن کر کہا : حسبی ان لا اسمع غیر ھا (اس کے بعد میں کچھ اور نہ سنوں تب بھی یہ میرے لئے کافی ہے) رواہ الامام احمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ نئے اسلام لانے والوں کو کسی صحابی کے سپرد کر دیتے تاکہ وہ ان کو دین کی باتیں سکھادیں ۔ اسی طرح ایک صحابی کو آپ نے حضرت علیؓ کے سپرد کیا تھا۔ وہ چند دن آئے اور اس کے بعد ان کا آنا بند ہوگیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کئی دن تک ان کو مسجد میں نماز میں نہ دیکھا تو آپ نے حضرت علیؓ سے ان کے بارے میں دریافت کیا جن کے سپرد ان کی تعلیم ہوئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ کئی دن سے وہ میرے پاس بھی نہیں آئے ہیں۔ آپ نے لوگوں سے کہا کہ ان کا پتہ کر کے بتائیں۔ آخر ایک روز ایک شخص کی ان سے ملاقات ہوگئی ۔ وہ لکڑی کا گٹھا سر پر رکھ کر اس کو بیچنے کے لئے بازار جارہے تھے ۔ انھوں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے بارے میں پوچھ رہے تھے، چل کر ملاقات کر لو ۔ وہ تیزی سے بازار گئے اور لکڑی کا گٹھا کسی کے ہاتھ بیچ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے کہا کہ تم کئی روز سے ادھر نہیں آئے۔ انھوں نے کہا : میں اس لئے نہیں آیا کہ میں نے سمجھا کہ میری تعلیم پوری ہوگئی ۔ آپ نے فرمایا : ابھی تو چند ہی دن گزرے تھے، پھر تمہاری تعلیم پوری کیسے ہوگئی ۔ انھوں نے کہا : میرے سامنے قرآن کی یہ آیت آئی : فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يرہ ، ومن يعمل مثقال ذرة شرّا يرہ (جو ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا ۔ جو ذرہ برابر برائی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا) اس آیت کو جاننے کے بعد اب میرا یہ حال ہوگیا ہے کہ جب بھی کوئی کام کرنا ہوتا ہے تو یہ خیال آجاتا ہے کہ قیامت میں اس کا انجام کس صورت سے سامنے آئے گا ۔ اگر دل کہتا ہے کہ وہ اچھا کام ہے اور اس کا انجام اچھی صورت میں سامنے آئے گا تو اس کو کرتا ہوں اور اگر اس اعتبار سے کھٹک پیدا ہوتی ہے تو رک جاتا ہوں پھر وہ کام مجھ سے نہیں ہوتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا : پھر تو تمہارے لئے یہی کافی ہے تابعی اس کو کہتے ہیں جس نے صحابہ کو دیکھا ہو۔ ایک تابعی نے ایک بار اپنے شاگردوں کے سامنے صحابہ کی خصوصیات بتائیں۔ انھوں نے کہا کہ صحابہ اتنا زیادہ نماز روزہ نہیں کرتے تھے جتنا تم لوگ کرتے ہو۔ ان کی فضیلت یہ تھی کہ ایک چیز ان کے دلوں میں بیٹھ گئی تھی (دلک نہ شیئ وقر فی قلوبہم) یہ چیز جو صحابہ کے دلوں میں بیٹھی ہوئی تھی وہ اللہ کا خوف تھا۔ اللہ کا خوف اگر آدمی کے اندر پیدا ہوجائے تو گویا ہر چیز اس کے اندر پیدا ہوگئی اور اگر وہ پیدا نہ ہو تو کوئی چیز پیدا نہیں ہوئی ۔ اللہ سے ڈرنے والا آدمی ہر معاملہ کو خدا کا معاملہ سمجھتا ہے اس لئے وہ ہر معاملہ میں تواضع اور انصاف کا رویہ اختیار کرتا ہے ۔ اور جب آدمی معاملات کو انسان کا معاملہ سمجھے تو کوئی چیز اس کو ظلم اور گھمنڈ سے روکنے والی ثابت نہیں ہوسکتی ۔ رسال مارچ - ۱۹۸۰
‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues