تم جتنی جلدی کرو گے اتنی ہی زیادہ دیر لگے گی
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۸
کا ایک قول یہ ہے :
تم جتنی جلدی کرو گے اتنی ہی زیادہ دیر لگے گی
یہ زندگی کی بڑی گہری حقیقت ہے۔ آپ ایک مکان کی تیسری منزل پر ہیں اور آپ کو کسی ضرورت کے تحت فوراً نیچے اترنا ہے۔ تاہم آپ کو کتنی ہی جلدی ہو ، آپ کو بہرحال سیڑھیوں کے ذریعہ اترنا ہوگا۔ اگر جلدی کی خاطر آپ ایسا کریں کہ تیسری منزل سے زمین کی طرف کود پڑیں تو یقیناً آپ بہت جلد نیچے پہنچ جائیں گے۔ مگر یہ جلدی عملاً بہت زیادہ دیر بن جائے گی۔ کیوں کہ آپ کا ہاتھ پاؤں ٹوٹ جائے گا اور آپ نیچے اتر کر اپنی منزل کی طرف جانے کے بجائے ہسپتال لے جائے جائیں گے اور وہاں مہینوں تک علاج کے بستر پر پڑے رہیں گے۔
ایک شخص اپنے گھر کے آنگن میں آم کا درخت دیکھنا چاہتا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر میں آم کا چھوٹا پودا لگاؤں تو اس کو بڑھنے میں کم از کم دس سال لگ جائیں گے۔ اس کے باغ میں آم کا ایک پانچ سال کا درخت تھا۔ اس نے منصوبہ بنایا کہ اس درخت کو کھود کر نکالے اور اس کو لا کر گھر کے آنگن میں لگائے۔ وہ خوش تھا کہ اس طرح پانچ سال کا سفر ایک دن میں طے ہو جائے گا اور چند ہی سال کے بعد گھر کے اندر آم کا ایک پورا درخت کھڑا ہوا نظر آئے گا۔ اس نے پانچ سالہ درخت کی کھدائی کے لئے مزدور لگائے۔ کئی آدمیوں نے گھنٹوں کی محنت کے بعد اس کو کھودا اور پھر ایک بڑی چار پائی پر رکھ کر اس کو گھر کے اندر لے آئے۔ درخت آنگن میں لگا دیا گیا۔ مگر اگلے ہی دن اس کے پتے مرجھاگئے ۔ اور چند ہفتوں کے بعد آدمی کے آنگن میں شاداب درخت کی جگہ صرف سوکھی لکڑی کا ایک ٹھنٹھ کھڑا ہوا تھا۔
ایک آدمی پیسہ کمانا چاہتا تھا۔ اس نے کرا کری کی دکان کھولی۔ سال بھر اس میں بیٹھا۔ جب اس نے دیکھا کہ دکان زیادہ نہیں چل رہی ہے تو اس نے طے کیا کہ کسی اور چیز کی دکان کھولے۔ اب اس نے بساطہ کا کام شروع کیا۔ ایک سال کے بعد اس کو محسوس ہوا کہ اس میں بھی زیادہ فائدہ نہیں ہے۔ اب اس نے اسٹیشنری کا کام شروع کر دیا۔ ایک سال میں اس سے بھی جی بھر گیا اور اس نے جوتہ کی دکان کرلی۔ اس طرح وہ بار بار اپنی لائن بدلتارہا اور بالآخر مایوس اور ناکام ہو کر بیٹھ گیا۔ اس آدمی کی ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس راز کو نہ سمجھ سکا کہ کسی کام میں کامیابی کے لئے وقت درکار ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ادھر دکان کھولی اور ادھر وہ شان دار طریقے سے چلنے لگی۔ آدمی نے کئی کاموں میں جتنا وقت لگایا جتنا ہی وقت اگر وہ ایک کام میں لگاتا تو یقیناً وہ کامیاب ہو جاتا۔ اس نے "جلدی چاہی اس نے اس کو دیر ہوتی چلی گئی۔ اگر وہ وہ جلدی نہ کرتا تو اس سے کم وقت میں وہ کامیاب ہو جاتا جتنا وقت اس نے بار بار کے ناکام تجربوں میں ضائع کر دیا۔ نوٹ : یہ مضامین ۲۶ - ۳۰ - دسمبر ۱۹۷۹ء کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کئے گئے (رسالہ تاریخ ۱۹۸۰ء)
‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues