تو کل ایک مھے
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۰، صفحہ ۹
تو کل ایک مھے
دنیا دار الامتحان ہے اس لئے یہاں جد و جہد کرنا ہے۔ مگر مومن اللہ کے لئے جیتا ہے اس لئے اس کا بھروسہ اللہ پر رہتا ہے۔ جد و جہد مومن کے حالت امتحان میں ہونے کا تقاضا ہے اور تو کل اس کی ایمانی نفسیات کا۔
ایمان اور توکل دونوں تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : علی اللہ فتوالو ان کنتم مومنین (اللہ پر توکل کرو اگر تم مومن ہو) اس دنیا میں آدمی کو جس امتحان میں پورا اترنا ہے وہ یہی ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ کرنے والا ثابت ہو۔ وہ سب کچھ اللہ کی طرف سے سمجھے اور کسی بھی حال میں اللہ کے سوا کسی پر اعتماد نہ کرے۔ مگر یہ امتحان اسی وقت ہو سکتا تھا جب کہ آدمی کو مخالفانہ حالات میں رکھا جائے۔ غیر متوکلانہ حالات ہی میں توکل کا امتحان ہو سکتا ہے ۔ توکل یہ ہے کہ آدمی اسباب کے ذریعہ نتیجہ نکلتا ہوا دیکھے، اس کے باوجود اس کو اللہ کی طرف منسوب کرے، اسباب کا سرچونٹنے سے ناکامی سامنے آئے پھر بھی وہ یہی سمجھے کہ خدا کا حکم شامل حال نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا۔ اسباب وعلل کے درمیان اپنے کو گھرا ہوا پا کر وہ اپنی تمام کوششوں کو بروئے کار لائے، مگر اس کا دل اس وقت بھی سارے معاملے کو بس اللہ کا معاملہ سمجھ رہا ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو امتحان کس بات کا ہوگا اور کیوں کر یہ معلوم ہوگا کہ آدمی حقیقی معنوں میں اللہ پر بھروسہ کرنے والا تھا یا ظاہری اسباب میں گم ہو جانے والا۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی کو توکل کے خلاف حالات میں توکل کا ثبوت دینا ہے۔ اسباب وعلل کے درمیان رہتے ہوئے یقین کرنا ہے کہ صرف ایک اللہ موثر حقیقی ہے۔ آسانیوں اور مشکلوں سے گزرتے ہوئے خود آسانیوں اور مشکلوں میں نہیں الجھنا ہے بلکہ ہر حال میں صرف اللہ کی طرف اپنی نظریں جمائے رکھنا ہے۔
امتحان لانا یہ چاہتا ہے کہ آدمی کے سامنے دو مختلف راہیں ہوں اور اس کے لئے موقع ہو کہ وہ اپنی آزادانہ رائے کے تحت دونوں میں سے کسی ایک کو چن سکے۔ اسی مصلحت کی بنا پر موجودہ دنیا کے اوپر اسباب و علل کا پردہ ڈال دیا گیا ہے اور آدمی کے لئے ایسے حالات پیدا کئے گئے ہیں کہ جو نتیجہ سامنے آئے وہ عمل اور جد و جہد کے ذریعہ سامنے آئے۔ آدمی ایک چھوٹا سا معمولی بیج مٹی کے اندر ڈالتا ہے اور اس کے بعد حیرت انگیز طور دہ دیکھتا ہے کہ اس کے اندر سے ایک ایسا ہرا بھرا درخت نکلا چلا آرہا ہے جس میں لکڑی ہے، پتیاں ہیں، پھول ہے، پھل ہے، مزہ ہے، خوشبو ہے اور بے شمار دوسری چیزیں ہیں، یہ واقعہ سراپا ایک قدرتی معجزہ ہے۔ معجزہ کے سوا کوئی چیز ایسے حیرت ناک وجود کو پیدا نہیں کر سکتی جس کا نام درخت ہے۔ مگر اس معجزاتی واقعہ کو اسباب کے پردہ میں ظاہر کیا جاتا ہے تاکہ آدمی کے لئے یہ بھی ممکن ہو کہ وہ سمجھے کہ ظاہری اسباب نے اس کو وجود دیا ہے۔ آدمی تعلیم حاصل کر کے ایک ڈگری لیتا ہے اور اس کے بعد ایک اچھی ملازمت کے ذریعہ شان دار تنخواہ وصول کرتا ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ سرا سر ایک خدائی کرشمہ ہے۔ آدمی کے اندر یہ انوکھی صفت ہونا کہ وہ سوچے، وہ لکھے اور بول سکے۔ وہ کتاب کی لکیروں کو معانی کی صورت میں پڑھے، وہ خیالات کو منظم کرے۔ وہ باتوں کو یاد رکھے اور ان کو دہرائے۔ وہ عزم و ارادہ کے تحت اپنی قوتوں کو استعمال کرے۔ یہ اور اس طرح کی دوسری بے شمار چیزیں جن کی مساعدت سے ایک شخص تعلیم یافتہ بنتا ہے اتنا حیران کن حد تک بعید الوقوع ہے کہ معجزہ خداوندی کے سوا کسی اور لفظ سے اس کو تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ مگر یہ سب کچھ بظاہر ایسے حالات کے تحت
‹ Previous page Next page › Contents of March 1980 All issues